نیویارک: امریکی شہر نیویارک میں مسلمانوں نے انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان راسموس پالودان کی جانب سے سویڈن میں ترک سفارت خانے کے سامنے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔آزادی اظہار کی غلط تشریح کا سہارا لیتے ہوئے نازیبا حرکات کرنے والے آپ کو دنیا کے ہر مقام پر دیکھنے کو ملیں گے ۔میان ہٹن میں سویڈن کے نمائندہ دفتر کی جانب مہتر بینڈ کے ساتھ پیدل مارچ کرنے والے ترک شہریوں سمیت امریکی مسلمانوں نے سویڈش قونصل خانے کی عمارت کے سامنے پھولوں کی سیاہ چادر چھوڑی جس پر قرآن ِ کریم بھی موجود تھا۔ نمائندہ دفتر کے سامنے نماز ادا کرنے کے بعد تکبیریں پڑھنے والے گروہ نے کہا کہ ہم تمام تر مقدس کتابوں کا احترام کرتے ہیں، بعض شہری حقوق مہذب نہیں ہوتے ، نفرت ، نفرت کو جنم دیتی ہے ،قرآن یا پھر انجیل کو مت جلاؤ تحریروں پر مبنی بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ترک شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے انگریزی زبان میں ایک بیان دینے والے ،ترک ۔ امریکن اسٹیئرنگ کمیٹی کے شریک چیئرمین میلیح بیکتاش نے کہا کہ آزادی اظہار کی غلط تشریح کا سہارا لیتے ہوئے نازیبا حرکات کرنے والے آپ کو دنیا کے ہر مقام پر دیکھنے کو ملیں گے ۔بیکتاش نے کہا کہ دنیا کی اکثریت اچھے لوگوں پر مشتمل ہے اور وہ دنیا کو امن کے ساتھ رہنے کے قابل بناتے ہیں۔دیگر مسلم ممالک کے شہریوں نے بھی قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف ردِ عمل کا مظاہرہ کیا ہے تو ترک شہریوں نے حکومتِ سویڈن کے دین اسلام کی مقدس کتاب کی بے حرمتی پر چپ سادھنے اور غیر موزوں بہانے بنانے کے خلاف احتجاج کیا ہے ۔