نیویارک : چہارشنبہ کو چینی انجینئر’جی چاؤکون‘ کو امریکہ میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ چاؤ پر بیجنگ کو امریکی ماہرین کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ 2013ء میں جی چاؤکون سٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ پہنچے اور ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ امریکی سائنسدانوں اور انجینئروں کو جانتے ہیں جنہیں چینی انٹیلی جنس سروس کے ذریعے بھرتی کیا گیا ہے۔اسے ستمبر 2018ء میں گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ اس نے چینی یا تائیوانی نڑاد آٹھ امریکیوں کے بارے میں معلومات دی تھیں، جن میں سے کچھ پرامریکہ میں دفاعی شعبے میں تعاون کا الزام عاید کیا گیا۔اسے ستمبر میں شکاگو میں دو ہفتے کے مقدمے کے اختتام پر غیر قانونی طور پر غیر ملکی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے اور گمراہ کن بیانات دینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق جی چاؤکون نے چینی انٹیلی جنس ایجنٹ زو بنگن کی نگرانی میں کام کیا جسے امریکی اور فرانسیسی ایئر لائنز سے ٹیکنالوجی چوری کرنے کی کوشش کے الزام میں امریکہ میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔