کھلے ذہن کے ساتھ کئی شعبہ جات کا احاطہ ۔ مرکزی وزیر پیوش گوئل کا بیان
نئی دہلی 16 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر صنعت و تجارت پیوش گوئل نے آج کہا کہ ہندوستان اور امریکہ تجارت سے متعلق مسائل کو حل کرنے کیلئے بات چیت میں مصروف ہیں اور جلد ان کو حل کیا جاسکتا ہے ۔ پیوش گوئل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کئی مسائل پر امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور ہم اپنے موقف کو واضح کر رہے ہیں ۔ جیسے ہی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مل بیٹھ کر ان پر کوئی فیصلہ کرلیں گے ہم سب کو مطلع کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کھلے ذہن سے کام کر رہے ہیں اور کھلے ذہن کے ساتھ کئی شعبہ جات کو نظر میں رکھے ہوئے ہیں۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ ہند ۔ امریکہ مجوزہ تجارتی معاملات میں کن شعبہ جات کا احاطہ کیا جائیگا ۔ اس سوال پر کہ آیا وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ٹرمپ کے مابین ہونے والی ملاقات میں استعلق سے کوئی معاہدہ ہوجائیگا پیوش گوئل نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ گذشتہ کئی ماہ سے بات چیت میں حصہ لے رہے ہیں اور ہم اس جانب پیشرفت کر رہے ہیں کہ مسائل کو جلد حل کرلیا جائے ۔ ان میں سے کئی مسائل کو جلد حل کرلیا جائیگا ۔ تاہم کسی معاہدہ کا اعلان کرنا یا نہ کرنا وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ٹرمپ کا کام ہے اور وہی اس تعلق سے فیصلہ کریں گے ۔ نریندر مودی 21 تا 27 ستمبر امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیںجس کے دوران وہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سشن سے خطاب کرینگے اور نیویارک میں کئی باہمی اور ہمہ رخی ملاقاتیں کرینگے اور پروگراموں میں حصہ لیں گے ۔ دونوںملکوںکے مابین تجارتی مسائل کو حل کرتے ہوئے ایک پیکج پر پہونچنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ دو رخی تجارت کو فروغ حاصل ہوسکے ۔ ہندوستان کا اصرار ہے کہ امریکہ نے کچھ اسٹیل اور المونیم کی اشیا پر جو بھاری ڈیوٹی عائد کی ہے اسے ختم کیا جائے اور ایکسپورٹس فوائد گھریلو اشیا پر فراہم کی جائیں اس کے علاوہ ہندوستان چاہتا ہے کہ زراعت ‘ آٹو موبائیل اور انجینئرنگ جیسے شعبہ جات کی اشیا کو بھی امریکی مارکٹوں تک رسائی دی جائے ۔ اس کے جواب میںامریکہ چاہتا ہے کہ اس کی زرعی اشیا پر امپورٹ ڈیوٹی کم کرتے ہوئے ہندوستان کی مارکٹوں میں بھی اسے زیادہ رسائی دی جائے ۔ وہ چاہتا ہے کہ امریکی ڈائرے اشیا ‘ طبی آلات ‘ آئی ٹی اور مواصلاتی اشیا کو بھی ہندوستان کی مارکٹوں میں پیش کرنے کا موقع دیا جائے ۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے مابین جو باہمی تجارت ہے اس کا توازن زیادہ ہندوستان کے حق میں پایا جاتا ہے ۔