مرکز پر تیسرے فریق کی مداخلت قبول کرنے کا الزام ۔ راہول گاندھی کی تقاریر بھی وائرل
حیدرآباد 11 مئی (سیاست نیوز) امریکہ کی مداخلت پر جنگ بندی نے ملک بھر میں بی جے پی حکومت پر تنقیدوں کا آغاز کیا ہے کیونکہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مرکزکے اقدامات کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے تائید کرکے حکومت کو کھلی چھوٹ دی تھی لیکن اچانک جنگ بندی کے فیصلہ اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان پر ہندوستانی عوام میں شدید برہمی پائی جانے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت نے دوخودمختار ممالک کے درمیان جاری تنازعہ میں امریکہ کی ثالثی کو کیوں قبول کیا اور اس کا اعلان بھی امریکی صدر سے ہونے پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم مودی کی پرانی تقاریر اور انٹرویو کے وہ حصہ وائرل ہونے لگے ہیں جن میں نے پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے اور اسے اس کی زبان میں سمجھانے کی باتیں کہی تھیں اور اب جبکہ سمجھانے کی بات آئی ہے تو امریکہ نے ہندوستان کو سمجھا دیا ایسے تبصرے بی جے پی کے خلاف کئے جانے لگے ہیں ۔اسی طرح راہول گاندھی کی پارلیمنٹ کی دو تقاریر بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہونے لگی ہیں جن میں راہول گاندھی نے پاکستان اور چین کے متعلق ہندوستان کے موقف کے متعلق یہ دعویٰ کیا تھا کہ حکومت ہند نے چین و پاکستان کے درمیان اتحاد کی راہ ہموار کرکے بڑا جرم کیا ہے جبکہ ہندوستان کی ہمیشہ سے دونوں پڑوسیوں کے ہمراہ مختلف پالیسی رہی ہے اور دونوں کوساتھ آنے سے روکے رکھا تھا ۔علاوہ ازیں راہول گاندھی کی تقریر جس میں وہ آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے نظریہ کے متعلق واضح کہہ رہے تھے کہ ان کا نظریہ بحیثیت ہندوستانی نہ دائیں تھا اور نہ بائیں بلکہ وہ ہندوستانی کی حیثیت سے سیدھے و صاف نظریہ کی حامل تھی ۔ ہند۔پاک جنگ بندی کے ًعد حکومت کی تائید میں کھڑے عوام کی بڑی تعداد نے مخالف حکومت موقف اختیار کرکے بیرونی مداخلت پر جنگ روکنے پر تنقید کرکے حکومت پر الزام عائد کرنا شروع کردیا ہے کہ حکومت عالمی دباؤ کے تحت کام کر رہی ہے ۔3