مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی امریکی وفد کی قیادت وینس کے سپرد

,

   

پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات میں زبردست پیشرفت کا اعتراف ، جارجیا یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب

واشنگٹن، 15 اپریل (یو این آئی) امریکی ٹی وی سی این این نے کہا ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے امریکی وفد کی قیادت بھی نائب صدر جے ڈی وینس کے سپرد رہے گی۔ سی این این کے مطابق ممکنہ مذاکرات کے سلسلے میں ذرائع نے بتایا کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے سے قبل اگلے ہفتے کوئی ملاقات ہوتی ہے تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے حکام کے ساتھ مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کی قیادت کریں گے ۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی کسی ممکنہ دوسرے اجلاس میں شرکت کریں گے ، جو جنگ سے قبل سے سفارتی بات چیت کی قیادت کرتے آ رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ دوسری ملاقات کے لیے تفصیلات پر تبادلہ خیال کر رہی ہے ، صدر ٹرمپ نے اپنے 3 اعلیٰ مشیروں کو جنگ سے نکلنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے ، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہوں گے ، صدر اب بھی ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کو ہونے والے 21 گھنٹے طویل اجلاس کے بعد سے ایرانی حکام اور ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے ۔ سی این این کے مطابق اس سے قبل بھی رپورٹ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ دوسرے اجلاس کی تفصیلات پر اندرونی سطح پر غور کر رہی ہے ، تاہم منگل کی شام تک یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ آیا یہ ملاقات واقعی ہو پائے گی یا نہیں۔ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز نیویارک پوسٹ کو بتایا تھا کہ آئندہ دو دنوں میں پاکستان میں کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے کیوں کہ امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ مستقبل کے مذاکرات زیرِ غور ہیں، تاہم اس وقت تک کوئی باضابطہ شیڈول طے نہیں کیا گیا۔دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جارجیا یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ امریکی وفد نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں زبردست پیش رفت کی ہے اور اسی پیش رفت کی وجہ ہی سے جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے ۔ جے ڈی وینس نے کہا ٹرمپ ایران کے ساتھ کوئی چھوٹی موٹی نہیں بلکہ بڑی ڈیل چاہتے ہیں، مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی لیکن جوہری ہتھیاروں پر ڈیڈ لاک ہوا، ٹرمپ نے کہا ایران نارمل ملک کی طرح رویہ رکھے تو ہم بھی اس کے ساتھ معاشی طور پر ایک عام ملک کی طرح سلوک کریں گے ۔ انھوں نے وضاحت کی کہ ٹرمپ چاہتے ہیں ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنائے اور پراکسیوں کی سہولت کاری نہ کرے ، ایران شرائط مان لے تو وہ بھی ترقی کے سفر میں ساتھ چل سکتا ہے ، ایران ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کی یقین دہانی کرائے تو اسے ہم عالمی معیشت میں شامل کر لیں گے ، ہم اس لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ڈیل ہو اور دنیا کے لیے کچھ بہتر ہو جائے ۔ (S/W)