نیویارک : گزشتہ برس امریکی ہوائی اڈوں پر سکیورٹی چیک پوائنٹس پر 6542 ہتھیار پکڑے گئے۔ روزانہ پر تقسیم کیا جائے، تو یہ تعداد یومیہ اٹھارہ بنتی ہے۔گزشتہ برس ایک خاتون فلاڈلفیا کے ہوائی اڈے پر پہنچیں تو انہیں اپنا کھانا بھی یاد رہا اور ادویات بھی، مگر وہ 380 کیلبر کی ہینڈگن کو سامان سے نکالنا بھول گئی۔امریکی ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے گزشتہ برس 6542 بندوقیں اور دیگر آتشیں اسلحہ مختلف ہوائی اڈوں پر قبضے میں لیا۔ پکڑے جانے والے ہتھیاروں کی تعداد یومیہ 18 ہے، جو ریکارڈ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں امریکی شہری کہیں زیادہ مسلح ہیں۔امریکہ کے ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ادارہ کے ایڈمنسٹریٹر ڈیوڈ پیکوسکے کے مطابق، ”جو اس وقت ہم ہوائی اڈوں کے چیک پوانٹس پر دیکھ رہے ہیں وہ ہمارے معاشرے کا عکاس ہے۔ ان دنوں بہت زیادہ افراد آتشیں اسلحے سے لیس ہیں۔‘‘2020 میں عالمی وبا کی وجہ سے نقل و حرکت میں کمی کو شامل نہ کیا جائے، تو امریکہ میں 2010سے ہوائی اڈوںپر پکڑے جانے والے آتشیں ہتھیاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق وہ اس رجحان کو ”ممکنہ ہائی جیکنگ‘ کے زمرے میں تو نہیں ڈال رہے، تاہم ان کو خدشات ہیں کہ یہ ہتھیار جہاز یا چیک پوائنٹس پر غلط ہاتھوں میں چلے گئے، تو خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔پیکوسکے نے کہا، ”یہ ہتھیار ہم کیلی فورنیا سے لے کر مائنے کے بنگور کے ایئرپورٹ تک سے پکڑ رہے ہیں۔ ان علاقوں کے بڑے ہوائی اڈوں پر ایسا زیادہ ہو رہا ہے۔
، جہاں ہتھیاروں کے حوالے سے قوانین قدرے نرم ہیں۔‘‘انہوں نے بتایا کہ ہتھیار پکڑے جانے کے حوالے سے ٹیکساس ریاست کے ڈیلاس، آسٹن اور ہیوسٹن، فلوریڈا کے تین ہوائی اڈے، ٹینیسی کے نیشویلے اور اٹلانٹا، فینکس اور ڈینور کے ہوائی اڈے اس فہرست میں سب سے آگے ہیں۔پیکوسکے کو یقین نہیں کہ ہر بار ‘میں بھول گیا‘ کا عذر درست ہے یا آیا پکڑے جانے پر یہ ایک قدرتی ردعمل ہے۔