انضمام حیدرآباد سردار پٹیل کا کارنامہ نہیں‘ سی پی ایم

   

کمیونسٹوں کی مسلح جدوجہد کا نتیجہ ۔ پارٹی کی ریلی اور جلسہ عام کا انعقاد
حیدرآباد 17 ستمبر ( سیاست نیوز ) ریاست حیدرآباد کا انڈین یونین میں انضمام سردار پٹیل کا کارنامہ نہیں بلکہ کمیونسٹ جدوجہد کا نتیجہ ہے ۔ بی جے پی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ، تاریخ کو غلط انداز میں پیش کرکے بی جے پی جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سی پی ایم قائدین نے کیا جو آج ٹینک بینڈ پر ایک جلسہ کو مخاطب تھے ۔ یوم انضمام کے ذرعیہ سی پی ایم قائدین نے لوور ٹینک بینڈ تا مخدوم محی الدین مجسمہ ریالی نکالی گئی ۔ بعد ازاں جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے سی پی ایم پولیٹ بیورو رکن مسٹر وجئے راگھون اور ایم سرینواس نے کہا کہ تلنگانہ مسلح جدوجہد کسی بادشاہ یا حکمراں کے خلاف نہیں تھی بلکہ زمینداری نظام اور جاگیرداروں کے ظلم سے نجات کیلئے تھی ۔ لاکھوں ایکڑ اراضیات کو قبضہ میں رکھ کر غریبوں سے ناانصافی کے خلاف جدوجہد شروع کی گئی تھی ۔ انہوںنے کہا کہ بی جے پی موجودہ دور میں تلنگانہ مسلح جدوجہد کو فرقہ واری شکل دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کوشش کررہی ہے جبکہ مسلح جدوجہد سے بی جے پی کا تعلق نہیں ۔ اس دور میں بی جے پی ، آر ایس ایس یا اس کی محاذی تنظیموں ہندو مہاسبھا کا وجود ہی نہیں تھا ۔ تلنگانہ جدوجہد کو مسلم حکمراں کے خلاف ہندوؤں کی جنگ قرار دیا جا رہا ہے جب کہ جدوجہد میں مسلمانوں نے بھی حصہ لیا جن میں قابل ذکر شعیب اللہ خاں ، شیخ بندگی اور مخدوم محی الدین شامل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ زمینداری و جاگیری طرز پر اب مرکزی حکومت کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن سرکار یعنی مودی ۔ امیت شاہ ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی ۔ امبانی اور اڈانی ہیں ۔ اس کو برطرف کرنے جدوجہد جاری رہیگی ۔ انہوں نے کیرالا حکومت کو ملک کیلئے بہترین ماڈل حکومت قرار دیا ۔ سی پی ایم کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ ع