انٹر میڈیٹ کی ٹیوشن فیس کی ادائیگی تک امتحانی فیس کی عدم وصولی

   


جونیر کالجس کا طلبہ اور اولیائے طلبہ پر دباؤ ، بورڈ آف انٹر میڈیٹ کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی
حیدرآباد۔ تلنگانہ ریاستی انٹرمیڈیٹ بورڈ کے احکام کی جونئیر کالجس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے اور جونئیر کالجس بورڈکے احکام کو نظر انداز کرنے میں کوئی قباحت یا غفلت محسوس نہیں کر رہے ہیں بلکہ بورڈ کی جانب سے فیس کے سلسلہ جاری کردہ احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ جب تک ٹیوشن فیس ادانہیں کی جاتی اس وقت تک امتحانی فیس وصول نہیں کی جائے گی ۔ریاستی حکومت کی جانب سے باضابطہ کلاسس کے آغاز اور کالجس کے کھولے کے جانے کے بعد فیس کے لئے ہراسانی میں شدت پیدا کی جا چکی ہے اور طلبہ پر دباؤ ڈالتے ہوئے یہ کہاجا رہاہے کہ کم از کم 75 فیصد فیس کی ادائیگی پر ہی ان کی امتحانی فیس وصول کی جائے گی اور امتحانی فیس وصول کرنے کے معاملہ میں بھی کالجس میں من مانی کا مظاہرہ کیا جا رہاہے اور بیشتر کالجس میں امتحانی فیس کے ساتھ سروس چارجس کے نام پر دوگنی فیس وصول کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے طلبہ اور اولیائے طلبہ کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دونوں شہر وں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے کئی اضلاع سے اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ ریاستی حکومت کی جانب سے احکام کی اجرائی کے باوجود خانگی جونئیر کالجس میں من مانی فیس وصول کی جا رہی ہے اور اس فیس کی وصولی کے معاملہ میں شکایت پر امتحانی فیس داخل نہ کرنے کا انتباہ دیا جا رہاہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ نے اس سلسلہ میں واضح احکامات جاری کرتے ہوئے تمام جونئیر کالجس کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی طالب علم پر فیس کیلئے دباؤ نہ ڈالیں اور نہ ہی ٹیوشن فیس کیلئے اصرار کریں بلکہ جو طلبہ امتحانی فیس کی ادائیگی کر رہے ہیں ان طلبہ سے امتحانی فیس وصول کرلی جائے ۔ حکومت اور بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ان احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے کالجس کی جانب سے طلبہ سے امتحانی فیس وصول کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے اور کہا جار ہاہے جب تک طلبہ ٹیوشن فیس کی 75 فیصد رقم ادا نہیں کرتے اس وقت تک ان کی امتحانی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ ریاست کے بیشتر کارپوریٹ اور خانگی کالجس کی جانب سے طلبہ سے امتحانی فیس وصول نہ کئے جانے کے سبب اولیائے طلبہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور کالجس انتظامیہ کی جانب سے ہراسانی پر طلبہ ذہنی اذیت کا شکا رہونے لگے ہیں۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی جانب سے اگر ریاست طلبہ سے امتحانی فیس وصول کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ کے طلبہ کو بڑی راحت حاصل ہوگی کیونکہ اگر کالج انتظامیہ کی ہراسانی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو حالات انتہائی ابتر ہوسکتے ہیں اور طلبہ اپنے مستقبل کے متعلق فکر مند رہیں گے ۔ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کا کہناہے کہ اگر ریاستی حکومت اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی جانب سے آن لائن امتحانی فیس کی وصولی کے اقدامات کئے جاتے ہیں اور یہ سہولت راست طلبہ کو فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں کالجس کی ہراسانی سے طلبہ اور اولیائے طلبہ محفوظ رہیں گے۔