اورنگ زیب اور بابر کے نام پر سیاست ملک کیلئے نقصاندہ

   

رام مندر کے افتتاح کا جشن منانے والی بی جے پی کو ایودھیا میں شکست ، منوج کمار جھا رکن راجیہ سبھا و جنتادل لیڈر کا آن لائن خطاب
حیدرآباد۔29جولائی(سیاست نیوز) منتھن کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا اور راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر منوج کمار جھا نے کہاکہ اورنگ زیب اور بابر کے نام پر سیاست ملک کے لئے نقصان دہ ہے جبکہ آج کے مسلمانوں کو ان سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔مگر مسلمانوں کو ان کے نام سے ہی تکلیف دی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے رام مندر کے افتتاح کا جشن منایا ‘ ان ہی لوگوں نے ایودھیا میں بی جے پی کو شکست سے دوچار کیا۔ انہوں نے یہی سماجی پیغام سال 2024کے عام انتخابات کے نتائج کے ذریعہ عوام نے حکمران جماعت اور اپوزیشن کو دیاہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہندوستان کی تاریخ کے دو انتخابات راست ملک کی عوام نے لڑے ہیں۔ ایمرجنسی کے بعد آنجہانی اندرا گاندھی کی حکومت کے خلاف عوام نے الیکشن لڑا تھا اور پھر 2024میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کے خلاف دوبارہ عوام نے الیکشن لڑا ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سال 2024کے انتخابی نتائج سے ثابت ہوگیاہے کہ ہندوستان میں فرقہ پرستی کی سیاست چلنے والی نہیںہے ۔ انہوں نے کہاکہ آزاد ہندوستا ن کی تاریخ میںکسی بھی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کبھی مسلمانوں کا نام لے کر ‘ مسلمانوں کا خوف دلاکر ووٹ مانگنے کی کوشش نہیں کی مگر 2024کے عام انتخابات کے لئے پہلے مرحلے کی رائے دہی کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کو عوام کی نفس کا احساس ہوگیاتھا اور انہوں نے مسلمانوں کا نام لے کر‘ مسلمانوں کو خوف دلاکر اپنی پارٹی کے لئے ووٹ مانگنے کی حکمت عملی پر کام کیا۔ تاہم ملک کی عوام نے اس حربے کو بھی نظر انداز کردیا۔ منوج جھا جو منتھن کے آن لائن پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ 2014میں یقینا یو پی اے اول کی کچھ کوتاہیاں‘ بدعنوانی کے معاملات کا سامنے آنا اور سیول سوسائٹی کا سڑکوں پر اترنا ‘ اور اس کے ساتھ اس وقت کی حکومت کی خلاف میڈیا کے ذریعہ چلائے جانے والا پروپگنڈہ بی جے پی کی جیت میں بڑی حدتک مددگار ثابت ہوا ۔ اس کے بعد 2019میں پلواما اورپٹھان کورٹ کے واقعات نے قومی احساس کو جگایا ٹھیک اسی طرح جب آنجہانی اندرا گاندھی کے دیہانت کے بعد ایک انتخابات میں ملک نے متحدہ طور پر کانگریس کو اقتدار سونپا تھا۔منوج کمار جھانے کہاکہ 2024کے عام انتخابات میں اب کی بار چارسو پار کا نعرہ لگانے والی بی جے پی اور بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی کی سونچ او رنظریہ کو عوام نے مسترد کردیا۔ ان کی عامرانہ پالیسیوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہاکہ جو سیاسی جماعت اپنے بل بوتے پر چار سو سے آگے یا کم ازکم 350سیٹوں کے ساتھ لوک سبھا انتخابات میں جیت کی دعویدار تھی۔ اس پارٹی نے اپنی انتخابی مہمات میں منگل سوترا چھین جانے ‘ اگر کسی کے گھر میں دو بھینس ہیں تو ایک بھینس حکومت چھین لینے اور نہ جانے ایسی کئی بے تکی باتوں کے ذریعہ رائے دہندوں کو ورغلانے کی کوشش کی اور پھر مسلمانوں کو خوف دیکھ کر ‘ مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کا ڈر دیکھا کر ‘ ملک کی املاک مسلمانوں کے حوالے کردینے کے دعوے پیش کرنے کے باوجود وہ سیاسی پارٹی ایودھیاجیسے شہر میں شکست سے دوچار ہوگئی اور واراناسی سے خود وزیراعظم نریندر مودی ووٹوں کی گنتی کے کئی دور تک پیچھے رہے ہیں۔منوج جھا نے کہاکہ ملک کا دستور اور قانون دونوں کو طاق پر رکھ کر انتخابات میں بڑی جیت حاصل کرنے کی ساری کوششیں ناکام رہیں اور عوام نے پھر ایک مرتبہ دکھا دیا کہ جمہوریت میں عوام ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ منوج جھا نے کہاکہ 2024عام انتخابات کا فیصلہ نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) کے لئے ایک سبق ہے بلکہ ہم اپوزیشن ( انڈیا الائنس)کے لئے بھی لمحہ فکر ہے۔ انہوں نے کہاکہ دستور کا کتابچہ پکڑ کر گھومناکافی نہیں ہے بلکہ جس عوام نے آپ کا ساتھ دیا ‘ آپ پر بھروسہ کیا ‘ آپ کو ایک نئی طاقت فراہم کی ہے اس عوام کے ساتھ آپ کا کھڑا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئین کی کتاب عوامی جلسوں میں تھامنے کے علاوہ ائین کے ساتھ رہیں اور آئین اصول اوراقدار کی پاسداری اور پاسبانی کریں۔انہوںنے کہاکہ وقار‘ آزاد‘ انصاف ‘ مساوات کو یقینی بنانے کی جدوجہد کو جاری رکھیں اور جن لوگوں نے ہمیں موقع فراہم کیاہے ۔ انہوں نے انتخابات2024کے نتائج کو ایک سماجی پیغام قراردیا او رکہاکہ پچھلے د س سالوں میںسماج تاریخ کے ساتھ کھلواڑ ‘ پولرائزیشن ‘ امتیازکا شکار ہوئی ہے ۔ چاہئے وہ اقلیتیں ہوں ‘ دلت ہوں اور دیگر طبقات ہوں وہ بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ نتائج ایک پیغام ہیں جو اقلیتوں‘ دلتوں‘ قبائیلیوں‘ پچھڑوں کے ساتھ امتیازی سلوک اورپولرائزیشن کی سیاست کو مسترد کردیاہے۔