اوپن اسکولنگ کے امتحانی مراکز کو اندرون دس کیلو میٹر قیام کی ہدایت

   

ترک تعلیم کے چیالنج بھرے رجحان سے نمٹنا ضروری ، سپریم کورٹ
حیدرآباد۔یکم۔جون۔(سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اوپن اسکولنگ کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے اندرون 10کیلو میٹر امتحانی مراکز کے قیام کو یقینی بنایاجائے۔ سپریم کورٹ میں تعطیلات کے دوران خدمات انجام دے رہی بنچ پر موجود جسٹس ایس اے نذیر اور جسٹس پی ایس نرسمہا نے یہ ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اوپن اسکول نظام سے وابستہ ہونے والے طلبہ کی بڑی تعداد غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذارنے والی ہوتی ہے علاوہ ازیں حمل و نقل کی بہتر سہولتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ امتحانی مراکز تک پہنچنے میں ناکام ہوجاتے ہیں جو کہ ترک تعلیم کے رجحان میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ جسٹس ایس اے نذیر اور جسٹس پی ایس نرسمہا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ملک کے لئے ترک تعلیم کا رجحان بہت بڑا چیالنج ہے اور اس چیالنج سے نمٹنے کے لئے اس طرح کے اقدامات کئے جانے ضروری ہیں۔ حکومت کی جانب سے تیار کی گئی قومی ایجوکیشن پالیسی 2020 میں بھی امتحانی مراکز کے قیام اور ان کی مسافت کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے اور اسی بات پر سپریم کورٹ کی جانب سے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کے ذمہ داروں کو دی گئی ہدایات کے بعد کہا جا رہاہے کہ حالات میں تیزی سے تبدیلی لائی جانے کی توقع ہے اور آئندہ اوپن طرز تعلیم کے امتحانی مراکز کے قیام کے سلسلہ میں واضح رہنمایانہ خطوط جاری کئے جاسکتے ہیں۔م