تین سوشیل میڈیا کھاتوں کے خلاف مقدمہ درج اور تحقیقات کا آغاز
حیدرآباد۔28۔مئی ۔(سیاست نیوز) اویسی برادران کے قابل اعتراض تصاویر پوسٹ کرنے پر پولیس انتظامیہ نے تین سوشل میڈیا کھاتوں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیاہے۔ایڈوکیٹ عزیز الرحمن نے اس سلسلہ میں ایک شکایت درج کرواتے ہوئے اویسی برادران کی قابل اعتراض تصاویر پوسٹ کرنے پر کاروائی کا مطالبہ کیا جس پر پولیس نے فیس بک اور انسٹاگرام کے 48ہزار والے پیج کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآبادو صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور ان کے بھائی قائد ایوان مقننہ جناب اکبرالدین اویسی کے قابل اعتراض تصاویر تیار کرتے ہوئے ان کے ویڈیو تیار کرتے ہوئے مذکورہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس اور پیج پر شیئر کئے جانے کے خلاف شکایت کنندہ ایڈوکیٹ نے ان سوشل میڈیا کھاتوں اور اسے چلانے والوں پر انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ اور بی این ایس کے تحت مقدمات درج کرنے کی خواہش کی ۔ عزیز الرحمن ایڈوکیٹ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ ہندوتوا عناصر اور فرقہ پرستوں کی جانب سے مسلسل اس طرح کا قابل اعتراضـ مواد شیئر کرتے ہوئے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہو ںنے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلنے سے روکنے کے لئے اس طرح کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف فوری کاروائی کی جانی چاہئے ۔سائبر کرائم پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد اس سلسلہ میں مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیاہے۔3