ایران: سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں ریپ کا معاملہ چھپانے کی ’عدالتی کوشش‘

   

تہران : ایران کے سرکاری وکیلوں کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے پاسداران انقلاب کے دو اہلکاروں کی جانب سے دو خواتین کے ریپ کے معاملے کی پردہ پوشی کی۔عرب نیوز نے برطانوی اخبار گارڈین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ عدالتی دستاویز سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے تہران میں ایک وین کے اندر ستمبر میں مبینہ طور پر 18 اور 23 سالہ خواتین کو ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔ان خواتین کو مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑنے والے مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ان خواتین کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے ان کے موبائل فونز کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دستاویز عدالت علی گروپ کی جانب سے سب سے پہلے نیوز چینل ایران انٹرنیشنل کو لیک کیا گیا۔اگرچہ سماجی کارکن طویل عرصے سے یہ الزام لگاتے آ رہے ہیں کہ سرکاری حکام احتجاج کے دوران گرفتار کی جانے والی خواتین کا ریپ کرتے ہیں تاہم پہلی بار ایسی عدالتی دستاویز سامنے آئی ہیں جن کی وجہ سے اس مخصوص کیس کا انکشاف ہوا ہے۔