ایران کی لبنان میںپیجر دھماکوں کی شدید مذمت

   

امریکہ کی ملوث ہونے کی تردید،رو سی میڈیاکا پیجر دھماکوں کی منظوری دینے نیتن یاہو پر الزام

تہران : ایران نے لبنان میں ہونے والے پیجر دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صیہونی حکومت کی جانب سے دہشت گردی اور ’ قتل عام ‘ کی سازش قرار دیدیا ہے۔ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ لبنان میں کمیونیکیشن ڈیوائس میں دھماکوں کے اسرائیل اور اس کے حواریوں کی جانب سے جنگی اخلاقیات اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔اپنے بیان میں ایرانی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ عالمی انسانی قوانین کی اس کھلی خلاف ورزی پر عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب پر کارروائی کرکے اسے اس عمل پر سزا دی جائے۔لبنان میں پیجر دھماکوں کے بعد ایران کے وزیر خارجہ نے بھی لبنانی ہم منصب سے رابطہ کرکے دھماکوں میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ لبنان میں ایرانی سفیر کو فوری طبی امداد فراہم کرنے پر لبنان کے شکر گزار ہیں۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی لبنان میں ہونے والے پیجر دھماکوں کو اسرائیلی جارحیت کا حصہ قرار دے دیا تھا۔ایک بیان میں حماس نے کہا پیجر دھماکوں سے بڑھنے والی کشیدگی اسرائیل کو ناکامی اور شکست کی طرف لے جائے گی۔خیال رہے کہ اسرائیل کا لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال سامنے آیا ہے، عرب میڈیا کے مطابق لبنان کے مخلتف علاقوں میں حزب اللہ ارکان کے پیجر میں ایک ساتھ دھماکے ہوئے۔لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پیجر دھماکوں میں ایک بچے سمیت 8 افراد شہید جبکہ ڈھائی ہزار سے زائد زخمی ہوگئے ہیں، 200 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔دوسری طرف حزب اللہ کے افراد کو نشانہ بنانے کیلئے پیجردھماکوں کی منظوری اسرائیلی وزیراعظم نے خصوصی اجلاس میں دی تھی جس کا مقصد کارروائیوں کونئے مرحلے میں داخل کرنا تھا۔روسی میڈیا کے مطابق اسی ہفتے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے وزرا اور سکیورٹی سروسز کے سربراہوں کی میٹنگ میں حزب اللہ کے افراد کو نشانہ بنانے کیلئے کارروائی کی منظوری دی تھی۔پیجر دھماکوں میں لبنانی وزیر کے بیٹے سمیت 11 افراد شہید اور4 ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 2 سو کی حالت تشویشناک ہے جبکہ زخمی ایرانی سفیر مجتبی عمانی کے بارے میں ان کی اہلیہ نے واضح کیا ہے ان کی طبعیت ٹھیک ہے۔دریں اثناء امریکہ نے کہا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے عناصر کے ذریعے استعمال کیے جانے والے پیجرز کے بیک وقت دھماکے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔وزارت دفاع (پینٹاگون) کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رائڈر نے اس واقعہ کے حوالے سے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیا جس میں ایک بچے سمیت 9 افراد ہلاک اور تقریباً 2800 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 200 کی حالت تشویشناک ہے۔