ایل نینو اور بے ترتیب مانسون کی مار ، ترکاریوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

   

پیاز 68 فیصد اور آلو 62 فیصد مہنگا ، عام اور متوسط طبقہ پریشان ، کچن کا بجٹ بگڑ گیا
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : ملک بھر میں عام آدمی کی جیب پر مہنگائی کا شدید ترین بوجھ پڑ رہا ہے ۔ ایل نینو ( El Nino ) کے اثرات ، غیر موسمی بارش ، مانسون کی بے ترتیبی اور سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔ جس کے نتیجے میں ترکاریوں کی شدید قلت پیدا ہونے کے ساتھ قیمتوں میں زبردست اضافہ درج کیا جارہا ہے ۔ خاص طور پر ترکاریوں کے آسمان چھوتے داموں نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے باورچی خانے کا بجٹ مکمل طور پر برباد کر کے رکھ دیا ہے ۔ حالیہ دنوں میں پیاز کی قیمتوں میں 68.27 فیصد کا ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ آلو کی قیمت میں 11.05 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ جولائی میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) پر مبنی اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی کی شرح اچانک بڑھ جانے سے عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے ۔ غریب اور متوسط طبقے کو اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف روزمرہ کی خوراک اور ترکاریوں پر خرچ کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔ اگرچہ کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے ملک میں افراط زر کو 4 فیصد پر قابو میں رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن خوراک کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث معاشی اشاریے غیر مستحکم ہورہے ہیں ۔ حالات پر قابو پانے اور عوام کو راحت پہونچانے کیلئے مرکزی حکومت نے ہنگامی اقدامات شروع کردئیے ہیں ۔ پیاز کی سپلائی بڑھانے کیلئے بفر اسٹاک سے پیاز مارکٹ میں جاری کی جارہی ہے ۔ بیرون ملک پیاز کی برآمد کو روکنے اور مقامی مارکٹ میں دستیابی یقینی بنانے کے لیے برآمدات پر ڈیوٹی عائد کی گئی ہے ۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں نئی فصل کی مارکٹ میں آمد کے بعد ہی قیمتوں میں کمی ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی پر فوری قابو نہ پایا گیا تو عوام کی قوت خرید مزید متاثر ہوگی جس کے منفی اثرات دیگر تجارتی شعبوں پر بھی مرتب ہوں گے ۔۔ 2/a/b