Monday , October 21 2019

ایودھیا اراضی کی یکسوئی کیلئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے گی : نئی تشکیل شدہ’’ مصالحتی کمیٹی‘‘ کا عزم 

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے آج ایودھیا اراضی تنازعہ مقدمہ کو مصالحت کیلئے رجوع کردیا ہے اور اس نے تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے تاکہ وہ فریقین کے مابین مصالحت کرواسکے ۔ عدالت نے سبکدوش جسٹس خلیف اللہ کو اس سہ رکنی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے جب کہ اس میں شری شری روی شنکر اور سینئر وکیل سری رام پنجو اور دوسرے ارکان بھی شامل ہیں ۔ عدالتی احکاما ت کے بعد خلیف اللہ نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی قیادت میں کمیٹی کی تشکیل کاپتہ چلا ہے تاہم انہیں ابھی عدالتی احکام کی نقل موصول نہیں ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر واقعی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تو ہم ہر ممکنہ کوشش کریں گے کہ اس مسئلہ کو قابل قبول اندازمیں حل کرلیں گے

۔ روی شنکرنے کہا کہ ہم سب کو مل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس دیرینہ تنازعہ کو بہتر انداز میں حل کیا جاسکے اور معاشرہ میں یکجہتی کو فروغ دیا جاسکے ۔ روی شنکر نے کہا کہ ہر ایک کا احترام کرتے ہوئے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا چاہئے اور اس دیرینہ مسئلہ کی یکسوئی کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان مقاصد کیلئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ سینئر وکیل سری رام پنجو نے کہا کہ سپریم کورٹ نے انہیں ایک بڑی ذمہ داری دی ہے وہ اس کو پورا کرنے کی پوری کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ان پر ایک حساس ذمہ داری عائد کی ہے ۔ واضح رہے کہ سری رام پنجو مدراس ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ہیں اور وہ مصالحت میں مہارت رکھتے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے جسٹس خلیف اللہ کو مصالحتی کمیٹی کا سربراہ بنایا ہے ۔ کئی سیاسی قائدین نے عدالت کے اس اقدام کی ستائش کی ہے ۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے اسے قابل ستائش قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بند کمرہ میں مصالحت کے احکام دئے ہیں او ریہ ایک اچھی کوشش ہے ۔

عدالت کو امید ہے کہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے بھی اس اقدام کی ستائش کی گئی ہے ۔ مولانا ولی رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پہلے ہی کہہ چکاہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرے گا اس لئے ہم مصالحت کی تائید کرتے ہیں ۔ دوسری جانب دہلی جامع مسجد کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے روی شنکر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ شری شری روی شنکر کی شمولیت پر مجھے اعتراض ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں باقی ارکان سے مطمئن ہوں لیکن شری شری روی شنکر کانام خارج کردینا چاہئے ۔ کیونکہ وہ بابری مسجد کی جگہ صرف او رصرف رام مند ربنانا چاہتے ہیں اور مسلمانو ں کے کہتے ہیں کہ اپنی مسجد ایودھیا سے باہر بنوالیں ۔ واضح رہے کہ عدالت نے اس کمیٹی کو آٹھ ہفتوں کا وقت دیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT