پارٹی کے ووٹ شئیر میں کمی کے اندیشے ۔ مرکزی قیادت نے ریاستی قائدین کو نظر انداز کردیا
حیدرآباد۔12۔مارچ(سیاست نیوز) آندھراپردیش میں بی جے پی کے تلگودیشم اور جنا سینا سے اتحاد کے نتیجہ میں اے پی بی جے پی قائدین میں ناراضگی پائی جانے لگی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ آندھراپردیش کے بی جے پی قائدین نے اتحاد سے قبل اعلیٰ کمان سے طلب رپورٹ میں زمینی حقائق سے واقف کرواتے ہوئے اتحاد میں پیشرفت نہ کرنے سفارش کی تھی لیکن قومی قیادت نے آندھرا پردیش میں پارٹی موقف سے آگہی حاصل کرنے کے بعد تلگو دیشم و جنا سینا سے اتحاد کا فیصلہ کیا ہے اور نشستوں کی تقسیم سے واقف بھی کروایا جاچکا ہے۔ آندھراپردیش میں بی جے پی کی صورتحال پر پارٹی قائدین نے جو رپورٹ روانہ کی اس میں 1998 میں پارٹی کو ملے ووٹ اور تنہاء مقابلہ کے باوجود آندھرا پردیش کے دو حلقہ جات لوک سبھا سے کامیابی کی تفصیل پیش کرکے کہا کہ پارٹی نے 1998 میں 18.3 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے اور کاکناڈا و راجمندری سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن 1999 میں تلگودیشم سے اتحاد کے بعد بی جے پی کے ووٹ میں اضافہ نہیںہوا بلکہ اس میں گراوٹ آئی اور 1999 میں بی جے پی کو آندھراپردیش میں محض 0.7 فیصد ووٹ ملے تھے ۔ بی جے پی قائدین نے اعلیٰ کمان کے فیصلوں پر ناراضگی کا اظہار کرکے کہا کہ ریاست میں پارٹی اپنے ووٹ شئیر کو نقصان پہنچارہی ہے اور پارٹی کو ایسے فیصلوں کیلئے دیگر جماعتوں سے بی جے پی میں شامل قائدین مجبور کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش میں بی جے پی ۔ تلگو دیشم ۔ جنا سینا اتحاد سے بی جے پی کارکنوں میں ناراضگی کو دور کرنے بھی پارٹی سے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں جبکہ تلگودیشم اور جنا سینا دونوں بی جے پی کے ریاستی اور ضلعی قائدین کو مناکر متحدہ انتخابات میں حصہ لینے آمادہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں تاکہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں اتحاد کو فائدہ ہوسکے۔3