ایودھیا12 نومبر(سیاست ڈاٹ کام ) اجودھیا قضیہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے اجودھیا میں دیگر کسی مقام پرمسجد کی تعمیر کے لئے زمین کی تلاش کی کاروائی شروع کردی گئی ہے ۔ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق مسجد کے لئے ایودھیا کے چودھ کوسی پریکرما کے باہر زمین کی تلاشی جارہی ہے ۔ صدر تحصیل کے تحت شہنوا گرام سبھا کے علاوہ سہاول، باقی پور، صدر تحصیل علاقے میں محکمہ ریونیو نے زمین کی تلاش شروع کردی ہے ۔شہنوا گرام سبھا میں بابر کے سپہ سالار میر باقی کے مقبرہ ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے ۔ اس گاؤں کے باشندے رجب علی اور ان کے بیٹے محمد اصغر کو بابری مسجد کا متولی بتایا جاتا ہے ۔اسی کنبے کو برٹش حکومت کی جانب سے تین سو دوروپئے چھ پائی کی رقم مسجد کے رکھ رکھاؤ کے لئے دی جاتی تھی۔ سنی سنٹرل وقف بورڈ نے بھی اپنے دعوے میں اس کا تذکرہ کیا ہے ۔موصول اطلاع کے مطابق اس کے کسی دوسرے متولی کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ فی الحال سابق متولی کے وارثین آ ج بھی اسی گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ ان وارثین کی جانب سے بھی مسجد کی تعمیر کے لئے اپنی زمین دئے جانے کا اعلان کیا تھا۔ سال 1990۔91 میں اس وقت کے وزیر اعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ کے میعاد کار میں ہندو۔مسلم فریق کی بات چیت کے دوران مسجد کے لئے وشو ہندر پریشد کی جانب سے ہی شہنوا گاآن میں زمین دئے جانے کی تجویز دی گئی تھی۔مسلم فریق نے متنازع زمین کے علاقے کسی دوسرے جگہ پر مسجد کے نام سے زمین لینے سے انکار کردیا تھا۔ ادھر ہندو پریشد اور دیگر سنت بابری مسجد کے نام پر ملک میں کہیں بھی مسجد نہ بنانے دینے کا اعلان کیا تھا۔وشوہندو پریشد آج بھی اپنے اس اسٹینڈ پر قائم ہے ۔رام للا کے ساکھا ترلوکی ناتھ پانڈے کہتے ہیں‘‘ ہم عبادت کے کسی بھی طریقے کے مخالف نہیں ہیں لیکن بابر کے نام کی مسجد اجودھیا میں کہیں یا ملک کے کسی حصے میں بھی قابل قبول نہیں ہوگئی۔سپریم کورٹ کا حکم سبھی کے لئے قابل قبول ہے ۔