بار کونسل آف انڈیا کو ہزیمت

   

لطف کی ان سے التجا نہ کریں
ہم نے ایسا کیا ، کبھی نہ کریں
بار کونسل آف انڈیا کو سپریم کورٹ سے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے یہ واضح کردیا ہے کہ ملک کے لا گریجویٹس کو ڈسیپلن سکھانے کا کونسل کو کوئی اختیار یا حق حاصل نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ بار کونسل کے صدر نشین منن کمار مشرا کی معیادکے تعلق سے بھی عدالت نے ایک دن قبل تبصرہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ انہیں بار کونسل کے یومیہ امور کی انجام دہی کا اختیار حاصل رہ گیا ہے ۔ منن کمار مشرا گذشتہ 12 برس سے بار کونسل کی صدارت سنبھالے ہوئے ہیں اور وہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بھی ہیں۔ سارا مسئلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب نلسار یونیورسٹی آف لا حیدرآباد کے 2026 کے لا گریجویٹس نے اسنادات دینے کی تقریب میںچیف جسٹس آف انڈیا کو مدعو کرنے کی مخالفت کی تھی ۔ طلباء کی جانبسے یونیورسٹی کے ذمہد اروںکو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس فیصلے کو واپس لینے کیلئے اصرار کیا تھا ۔ اس کے فوری بعد منن کمار مشرا حرکت میں آگئے تھے ۔ انہوںنے بار کونسل کے صدر نشین سے زیداہ بی ج پی رکن پارلیمنٹ کے جذبات کا شکار ہوتے ہوئے ملک بھر کے بار کونسلس کوہدایت جاری کردی تھی کہ وہ جاریہ سال نلسار یونیورسٹی آف لاء سے گریجویشن کرنے والے طلباء کے رجسٹریشن نہ کریں۔ حالانکہ اس ہدایت سے اندون چند گھنٹے دستبرداری اختیار کرلی گئی تھی لیکن اس کے بعد بار کونسل کے تعلق سے ہی ہنگامہ شروع ہوگیا تھا اور منن کمار مشرا کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ منن کمار مشرا ملک کے ایک بڑے وکیل ہیں اور وہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بھی ہیں لیکن انہیں طلباء سے متعلق تنازعہ میں دخل اندازی سے گریز کرنا چاہئے تھا لیکن انہوں نے بی جے پی سے وابستگی کو مقدم رکھتے ہوئے نلسار یونیورسٹی آف لاء کے گریجویٹس کے تعلق سے ہدایت نامہ جاری کردیا اور یہی ایک فیصلہ ان کیلئے مشکات کا سبب بن گیا ہے ۔ بار کونسل سے خودا ن کی علحدگی کیلئے بھی اب مطالبات کئے جا رہے ہیں۔ اس ہدایت نامہ سے دستبرداری کے باوجود ان کا موقف کمزور ہوگیا ہے ۔
آج سارے ملک میں طلباء کے مسائل پر مباحث ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی جانب سے عدالت عظمی میں ایک سماعت کے دوران کئے گئے ریمارکس کے بعد سی جے پی کا وجود عمل میں آیا ۔ سی جے پی کی جانب سے ایک زبردست احتجاج منظم کیا گیا ۔ پارلیمنٹ مارچ ہوا ۔ پھر صورتحال کو دیکھتے ہوئے دھرمیندر پردھان کو مرکزی کابینہ سے مستعفی ہونا پڑا ۔ سارے واقعات نے ملک میں ایک طرح سے طلباء کے مسائل پر بحث چھیڑ دی ہے ۔ اس احتجاج کے بعد جھارکھنڈ میں بھی طلباء نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا تھا ۔ وہاں بھی طلباء کو جیت حاصل ہوئی تھی ۔ غرض یہ کہ ملک بھر میں طلباء کے مسائل پر ایک شعور سا بیدار ہوگیا ہے اور اس پر جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ ایسے میں بار کونسل آف انڈیا کے صدر نشین منن کمار مشرا کو ایک ذمہ دار وکیل کا رول نبھانا چاہئے تھا تاہم بی جے پی سے وابستگی کی وجہ سے انہوں نے جو ہدایت جاری کی تھی وہ خود ان کیلئے مسائل کا سبب بن رہی ہے اور ان سے خود بار کونسل سے علیحدگی کے مطالبات ہو رہے ہیں۔ اس ہدایت سے اندرون چند گھنٹے دستبرداری اختیار کرلئے جانے کے باوجود یہ مسئلہ سارے ملک کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا ۔ اب مختلف گوشوں سے سپریم کورٹ میں بھی یہ مسائل پیش کردئے گئے ہیں اور عدالت سے بار کونسل کے صدر نشین کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اس معاملے میں بار کونسل کو خود کوئی فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
بار کونسل آف انڈیا ملک میں وکلاء کا سب سے بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے صدر نشین کے تعلق سے جب عدثم اطمینان کی فضاء پیدا ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں جو صورتحال پیدا ہورہی ہے وہ وکلاء برادری کیلئے اچھی نہیںکہی جاسکتی ۔ ایسے میں بار کونسل آف انڈیا کو اپنا اجلاس طلب کرتے ہوئے کونسل کے اصول و ضوابط کے اعتبار سے کوئی ایک فیصلہ کرنے اور ایک ایسا موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے کونسل کا وقار برقرار رہے اور عدالتی کشاکش سے بھی بچنے میں مدد مل سکے ۔