حکومت کی صحیح سمت میں پیشرفت ، غیر محسوب اثاثہ جات منظر عام پر
حیدرآباد۔24۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) حکومت کی بدعنوان عہدیداروں اور ملازمین کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور کہا جار ہاہے کہ 4 جون کو انتخابی ضابطہ اخلاق کے اختتام کے بعد اس میں مزید شدت پیدا کی جائے گی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاست میں اقتدار حاصل کرتے ہی بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا کررہے عہدیداروں اور ان کے ماتحتین کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے سینیئر آئی اے ایس عہدیدار مسٹر اروند کمار کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا اور انہیں کلیدی عہدہ سے ہٹاتے ہوئے غیر اہم عہدہ کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ مسٹر اروند کمار کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے عہدیدار شیوابالاکرشنا کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا گیا تھا ۔ حکومت تلنگانہ نے آج محکمہ کانکنی کے 6عہدیداروں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کی خدمات ان کے اپنے محکمہ کو واپس کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ کانکنی میں خدمات انجام دینے والے عہدیدارپاڈو رنگاراؤ‘ دیویندر ریڈی ‘ پرشانتی کے علاوہ پراجکٹ آفیسرس دشرتھ‘ ٹی سریدھر اور سرینواس کے خلاف کاروائی کافیصلہ کیا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے بعد کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت نے لوک سبھا انتخابات کی تکمیل کے ساتھ ہی دوبارہ بدعنوانیوں میں ملوث عہدیداروں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور 4 جون کے بعد ان کاروائیوں میں مزید شدت پیدا کی جاسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاست میں اپوزیشن قائدین کے فون ٹیاپنگ اور انہیں ہراساں کرنے کے معاملہ میں کی گئی کاروائیوں کو بھی حکومت کی جانب سے اختیار کردہ سخت گیر موقف کے طور پر دیکھا جا رہاہے۔ ریاست میں کانگریس کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے جاری کاروائیوں کے دوران غیر محسوب اثاثہ جات رکھنے والے عہدیداروں کے علاوہ ان عہدیداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو سابقہ حکومت کی ایماء پر قوانین کے خلاف فیصلہ کرتے ہوئے ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ریاست میں حکومت کی ان کاروائیوں کے سلسلہ میں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد اس طرح کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن تلنگانہ میں جاری ان کاروائیوں کے جو نتائج برآمد ہورہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت صحیح سمت میں پیشرفت کرتے ہوئے کاروائیوں کو انجام دے رہی ہے کیونکہ شیوا بالا کرشنا اور اب اے سی پی اوما مہیشور راؤ کے پاس سے ضبط کئے جانے والے غیر محسوب اثاثہ جات سے یہ بات واضح ہورہی ہے ۔3