آج ہم کوئی الگ، کوئی نئی بات کریں
یوں کریں عمر گزشتہ سے ملاقات کریں
ہندوستان کی میزبانی میں برکس چوٹی کانفرنس کا ہفتے اور اتوار کو نئی دہلی میںانعاد عمل میں آ رہا ہے ۔ صدر روس ولادیمیر پوٹن ‘ چین کے صدر ژی جن پنگ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے علاوہ دیگر عالمی قائدین بھی اس کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔ برکس ممالک کا یہ گروپ عالمی سطح پر اہمیت کا حامل ہے اور اس کی کارکردگی دنیا بھر پر اثرانداز ہوسکتی ہے ۔ برکس ممالک کی جو تنظیم ہے اسے امریکہ پسند نہیںکرتا کیونکہ اس میں روس اور چینک ی شمولیت اور حصہ داری ہے اور یہ ممالک دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر ایک بڑی تنظیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہندوستان اس تنظیم کے بانی ممالک میں شامل ہے اور اس تنظیم کو آگے بڑھانے اور مستحکم کرنے میں ہندوستان نے ہمیشہ سے انتہائی اہم اور سرگرم رول ادا کیا ہے اور آئندہ بھی ہندوستان کا رول اس تنظیم میں مزید سرگرم ہونے کے امکانات برقرار ہیں۔ یہ تنظیم رکن ممالک کیلئے اہمیت کی حامل اس لئے بھی ہے کہ ان ممالک کی تجارت میں اضافہ ہونے لگا ہے اور رکن ممالک آپسی تعلقات کو بھی مزید مستحکم کرنے اور نئے شعبہ جات میں تعاون و اشتراک کو فروغ دینے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں اس کانفرنس کا انعقاد اہمیت کا حامل ہے اور اس سے ہندوستان کے سرگرم رول کی بھی عکاسی ہوتی ہے ۔ برکس ممالک اپنی ایک کرنسی شروع کرنے کی تجویز بھی رکھتے تھے جس پر امریکہ نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس تنظیم میںشامل ممالک کے خلاف تحدیدات عائد کرنے کا بھی اعلان کیا تھا ۔ امریکہ دنیا کے ہر معاملہ میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ساری دنیا اس کے اشاروں پر کام کرے اور اس کے مفادات کی تکمیل ہی ہوتی رہے ۔ برکس ممالک کا جہاں تک سوال ہے تو وہ اپنے لئے زیادہ سہولت بخش حالات کے خواہاں ہیں اور اسی وجہ سے ان ممالک نے برکس کرنسی شروع کرنے کی تجویز بھی رکھی تھی ۔ تاہم اس تجویز کو مزید آگے نہیں بڑھایا جاسکا ہے اور دہلی چوٹی کانفرنس میں اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے ۔
برکس ایک تجارتی اور باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے والی تنظیم ہے ۔ اس کے کوئی فوجی عزائم نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کوئی دفاعی شعبہ کا احاطہ کرنے والی تنظیم ہے ۔ تاہم ایک دوسرے کے تجارتی تعلقات اور مفادات کا تحفظ اس تنظیم کا بنیادی مقصد ہونا چاہئے تاکہ کسی ایک ملک کی اجارہ داری کو ساری دنیا پر مسلط کرنے کی کوششوں کو روک لگائی جاسکی جس طرح امریکہ چاہتا ہے ۔ امریکہ دنیا کے ہر معاملہ میں اپنی بالادستی اور برتری کو واضح کرنے کیلئے ہی کام کرتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ دنیا کے دوسرے ممالک اس کے مد مقابل آ کھڑے ہوں۔ جہاں تک روس اور چین کا تعلق ہے تو یہ دونوں ہی ممالک امریکہ کو خاطرمیں نہیں لاتے اور وہ امریکہ سے کئی شعبہ جات میں آگے بڑھ چکے ہیں۔ ہندوستان بھی اپنی طاقت اور صلاحیت کا عالمی سطح پر لوہا منوا رہا ہے ۔ ہندوستان کیلئے اچھی بات یہ ہے کہ جہاں امریکہ اس کی صلاحیتوں اور اس کے بڑھتے ہوئے رول کا معترف ہے وہیں روس اور چین بھی ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے سے بھی اتفاق رکھتے ہیں۔ برکس میں شامل دیگر ممالک بھی ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو فوقیت دیتے ہیں۔ اس چوٹی کانفرنس کے ذریعہ دنیا بھر کو یہ پیام دینے کی ضرورت ہے کہ یہ ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے معاملے میں کسی کے دباؤ کو تسلیم نہیںکریں گے اور پنے مفادات کی تکمیل کے مطابق ہی تجارتی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا ۔
دہلی میں ہونے والی برکس چوٹی کانفرنس کے ذریعہ ایک ایسا تجارتی اور معاشی تعاون کا نظام فروغ دینے کی ضرورت ہے جو نہ صرف برکس ممالک پر بلکہ ساری دنیا کے دیگر ممالک پر بھی اثر انداز ہوسکے اور انہیں عالمی سطح پر اجارہ داری کی روایت سے بچنے کا موقع فراہم کرے ۔ آج دنیا میںحالات تیزی سے تبدیل ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ان تبدیلیوں کے مطابق برکس کو اپنی حکمت عملی کا تعین کرنا چاہئے اور ایسا تجارتی میکانزم فروغ دیا جانا چاہئے جو سارے رکن ممالک کیلئے یکساں نفع بخش ہو ۔