بلال احمد کو سپریم کورٹ سے راحت ‘ پی ڈی ایکٹ کالعدم

   

حیدرآباد۔/19 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے مجلس کے سابق کارپوریٹر وکانگریس لیڈر خواجہ بلال احمد کے خلاف رچہ کنڈہ پولیس کی جانب سے نافذ کئے گئے پی ڈی ایکٹ کو کالعدم کرنے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ جسٹس دھننجے وائی چندرچوڈ اور جسٹس ہریشی کیش رائے نے پولیس کمشنر رچہ کنڈہ کی جانب سے 25 اکٹوبر 2018 کو نافذ کئے گئے پی ڈی ایکٹ کو کالعدم کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ خواجہ بلال احمد پر نافذ کئے گئے پی ڈی ایکٹ کا طریقہ کار غلط ہے اور جس طرح 28 ڈسمبر سال 2018 کو پی ڈی ایکٹ کی برقراری کو درست قرار دینے کا فیصلہ شک کے دائرہ میں ہے۔ سابق کارپوریٹر کو رئیل اسٹیٹ تاجر کے قتل کے الزام میں عبداللہ پور میٹ پولیس نے گرفتار کیا تھا لیکن پولیس ملزم کے خلاف اندرون 90 دن چارج شیٹ داخل کرنے میں ناکام رہی جس کے نتیجہ میں ان کی ضمانت پر رہائی عمل میں آئی تھی۔ جوابی حلف نامہ میں رچہ کنڈہ پولیس نے سپریم کورٹ کو یہ بتایا تھا کہ خواجہ بلال احمد کا کریمنل ریکارڈ ہے اور وہ 14 سے زائد مقدمات میں ملوث ہیں۔ پی ڈی ایکٹ کو نافذ کئے جانے کے خلاف سابق کارپوریٹر تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے تھے لیکن ان کی درخواست مسترد کردی گئی تھی جس کے نتیجہ میں وہ 25 اکٹوبر 2018 تا 27 فروری 2019 تک پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل میں تھے۔
ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف کانگریس لیڈر نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور پی ڈی ایکٹ کو چیالنج کیا تھا۔ خواجہ بلال کیلئے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سدھارتھ لوترا نے کامیاب پیروی کی جس کے نتیجہ میں سابق کارپوریٹر کو راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد خواجہ بلال کے والد اسلامیہ گروپ آف کالجس کے چیرمین جناب خواجہ حسن نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے ان کے بیٹے کو انصاف دلایا ہے۔