بھگوامیں غلط کیاہے؟نائب صدر جمہوریہ وینکیانائیڈو نے تعلیم کے بھگواکرن کی وکالت کی

   

نائب صدر ایم وینکیا نائیڈونے آج ہندوستان کے قدیم درس وتدریسی نظام پر پھر سے غور کرنے اور روایتی علوم کے احیاء کے ذریعہ ملک کی تعلیمی شعبے میں تابناک روایات کو بحال کرنے کو کہاہے۔آج ہریدوار میں امن ومصالحت کے جنوب ایشیائی ادارے کا افتتاح کرنے کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے اس بات پر افسوس ظاہر کیاہے کہ کئی صدیوں تک غیر ملکی حکمرانی نے ہندوستان کے قدیم اور مشہور تعلیمی نظام کو نقصان پہنچایاہے۔انھوں نے کہاہے کہ طویل نوآبادیاتی راج نے عورتوں سمیت بڑے طبقے کو تعلیم سے محروم رکھا اور صرف اعلیٰ طبقے کی رسمی تعلیم تک رسائی تھی۔وینکیانائیڈو نے کہاہے کہ ہم پر تعلیم کو بھگوا بنانے کا الزام لگایا جاتا ہے، لیکن بھگوامیں کیا غلط ہے؟ جو ہمارے قدیم متون میں موجود فلسفے ہیں۔ یہ آج بھی ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے رہنما اصول ہیں۔ انھوں نے کہاہے کہ تمام لوگوں کو معیاری تعلیم حاصل ہونی چاہیے اوراسی صورت میں ہم اپنی تعلیم کو تمام لوگوں کی شمولیت والی اور جمہوری کہہ سکتے ہیں۔ وینکیا نائیڈونے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ہمارے تعلیمی نظام کو ہندوستانی روپ دینے کی کوشش کو سراہا اور اس ذہنیت کی پرزور مذمت کی جو ہر ہندوستانی چیز کو کمتر سمجھتی ہے۔