ماسکو: روسی منصوبہ کا مقصد مبینہ طور پر سیاسی، اقتصادی اور فوجی لحاظ سے بیلاروس میں سرایت کر جانا ہے۔ تقریبآ تین دہائیوں سے بیلاروس پر حکمران لوکا شینکو ہمیشہ سے ماسکو کے بہت قریب رہے ہیں۔روس نے اپنے ہمسایہ ملک بیلاروس کو 2030 تک اپنے اندر ضم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اس بات کا انکشاف روس کی صدارتی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر لیک کی گئی ایک سرکاری دستاویز میں کیا گیا ہے۔ یہ دستاویز یاہو نیوز اور جرمن اخبار زْوڈ ڈوئچے سائٹْنگ سمیت دیگر اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ایک بین الاقوامی کنسورشیم نے شائع کی۔یہ دستاویز 2021 کے موسم گرما کی ہے اور اس میں بیلاروس میں سیاسی، اقتصادی اور فوجی مداخلت کا منصوبہ وضع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے مختلف مراحل ہیں۔ ان میں قلیل المدتی یعنی 2022ء تک، وسط مدتی یعنی 2025ء تک اور طویل المدتی یعنی 2030ء تک کے مراحل شامل ہیں۔طویل المدتی منصوبہ روسی قیادت کے زیر اہتمام ایک ’’متحدہ ریاست‘‘ کی تشکیل سے متعلق ہے۔ 1999ء میں کیے گئے ایک معاہدے کے تحت یہ دونوں ممالک پہلے ہی ایک نام نہاد متحدہ ریاست کا حصہ ہیں۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان انضمام کیلئے قانونی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔