بی آر ایس اورعآپ نے صدر جمہوریہ کے خطبہ کا بائیکاٹ کیا

   

ہم صدر جمہوریہ کیخلاف نہیں‘ مودی حکومت کی پالیسیوں کے مخالفت

حیدرآباد۔/31 جنوری، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کا آغاز کرتے ہوئے بی آر ایس نے آج صدر جمہوریہ کے خطبہ کا بائیکاٹ کیا۔ بی آر ایس کی تشکیل کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب پارٹی نے مودی حکومت کیخلاف کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ پارلیمنٹ سیشن کے پہلے دن صدر جمہوریہ
دروپدی مرمو نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مشترکہ سیشن سے خطاب کیا۔ بی آر ایس کے 16 اور عام آدمی پارٹی کے 10 ارکان نے صدر جمہوریہ کے خطبہ کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی آر ایس پارلیمانی پارٹی قائد ڈاکٹر کے کیشوراؤ نے کہا کہ ہم صدر جمہوریہ کیخلاف نہیں ہیں بلکہ مرکزی حکومت کی ناکامیوں کے خلاف بطور احتجاج خطبہ کا بائیکاٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور عام آدمی پارٹی نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر کے کیشوراؤ نے کہا کہ احتجاج کا مقصد جمہوری انداز میں این ڈی اے حکومت کی ناکامیوں کو آشکار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جمہوری انداز میں بی آر ایس کا احتجاج جاری رہے گا اور مودی حکومت کے مخالف عوام فیصلوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔ کیشو راؤ نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے خطبہ سے مایوسی ہوئی ہے کیونکہ ملک کو درپیش اہم مسائل معاشی انحطاط اور بیروزگاری کو شامل نہیں کیا گیا ۔ ملک میں کیاپٹلزم کا دور دورہ ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ہم خیال جماعتوں کی تائید کے ساتھ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسائل کو پیش کریں۔ ر