اساتذہ تنظیمیں ‘طلباء تنظیمیں اور متوقع امیدوار بھی سرگرم ۔ مہم پر خاص توجہ
حیدرآباد۔20۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں گریجویٹ نشستوں کے کونسل اراکین کی معیاد ختم ہونے ابھی کچھ ماہ رہ گئے ہیں اور تلنگانہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ’فہرست رائے دہندگان‘ کی تیاری کا شیڈول جاری کرنے کے ساتھ ہی دونوں گریجویٹ حلقہ جات کونسل کیلئے امیدواروں نے اپنی جدوجہد شروع کردی ہے اور گریجویٹ ووٹرس کو راغب کرنے کی کوشش میں مصروف ہو چکے ہیں۔تلنگانہ میں برسراقتدار کانگریس کے ٹکٹ پر گریجویٹ نشست سے مقابلہ کرنے کے خواہشمندوں کے علاوہ اپوزیش بی آر ایس میں بھی کئی دعویدار اپنی کوشش کرنے لگے ہیں اس کے علاوہ حیدرآباد۔رنگاریڈی ۔ محبوب نگر گریجویٹ حلقہ قانون ساز کونسل سے مختلف طلبہ تنظیموں کے قائدین و اساتذہ کی یونینوں میں سرگرم قائدین امیدواری کی تیاری میں مصروف ہیں اور گریجویٹ ووٹرس کو فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کیلئے آمادہ کرکے انہیں طریقہ کار سے واقف کروانے میں مصروف ہیں اسی طرح تلنگانہ میں بی سی طبقات کے حقوق کے تحفظ کیلئے کانگریس سے اخراج کے بعد پارٹی قائم کرنے والے رکن کونسل تین مار ملنا نے ریاست گیر پدیاترا کا آغاز کرکے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی مہم چھیڑ دی ہے جسے بالواسطہ طور پر گریجویشن نشست کے انتخابات کیلئے ’انتخابی مہم ‘ قرار دیا جا رہاہے ۔مجوزہ کونسل انتخابات میں دو حلقہ جات حیدرآباد ۔ رنگاریڈی ‘محبوب نگر کے علاوہ کھمم۔ورنگل ۔ نلگنڈہ کے انتخابات ہوں گے۔دونوں حلقہ جات کونسل کیلئے کئی امیدوار مقابلہ کی تیاری میں مصروف ہوچکے ہیں اور اپنی پارٹیوں میں ٹکٹ کیلئے بھی کوشاں ہیں اس کے علاوہ کئی طاقتور انفرادی امیدوار بھی ان انتخابات میں مقابلہ کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اب تک کی ناانصافیوں کو دور کرنے وہ نمائندگی کرسکیں۔ بتایا جاتاہے کہ بعض امیدوار ان حلقہ جات سے مقابلہ کیلئے کمیونسٹ جماعتوں کی تائید کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں سے بھی مدد حاصل کرنے پہنچنا شروع کرچکے ہیں اور کئی امیدوار طلبہ قائدین سے رابطہ کرکے ان کی تائید پانے کی کوشش کر رہے ہیںلیکن سیاسی جماعتوں کی جانب سے جن لوگوں کو ٹکٹ دیا جائے گا انہیں سیاسی تائید حاصل ہوگی جبکہ آزاد امیدوار بھی تیاریاں کر رہے ہیں۔3