بی آر ایس کے منحرف ارکان کے خلاف درخواست کی سپریم کورٹ میں سماعت

   

25 مارچ تک جوابی حلفنامہ داخل کرنے حکومت ، اسپیکر اور منحرف ارکان کو ہدایت

حیدرآباد۔/12مارچ، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کیلئے اسپیکر اسمبلی کو ہدایت دینے سے متعلق بی آر ایس قائدین کی درخواست کی آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے آج اس معاملہ کی سماعت کی اور سابق میں جاری کردہ نوٹس کے جوابی حلفناموں کی وصولی کے بارے میں استفسار کیا۔ جسٹس بی آر گوائی نے گذشتہ سماعت کے موقع پر اسپیکر اسمبلی کے علاوہ سکریٹری لیجسلیچر، ریاستی حکومت، الیکشن کمیشن اور 10 منحرف ارکان کو نوٹس جاری کی تھی۔ اسپیکر کو نوٹس کی عدم وصولی کی اطلاع پر جسٹس گوائی نے ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے ذریعہ نوٹس کی روانگی کی ہدایت دی تھی اور یہ نوٹس اسپیکر کو موصول ہوچکی ہے۔ جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس ونود چندرن نے نوٹس کا جواب موصول نہ ہونے پر ناراضگی جتائی اور 25 مارچ تک کسی بھی صورت میں تمام فریقوں کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ جسٹس گوائی نے اس ہدایت کے ساتھ سماعت کو آئندہ کیلئے ملتوی کردیا۔ واضح رہے کہ بی آر ایس کے دس منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کیلئے دو علحدہ درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ کے ٹی آر کی جانب سے ایک درخواست داخل کی گئی جبکہ ارکان اسمبلی کوشک ریڈی اور ویویکانند نے دوسری درخواست داخل کی۔ درخواست گذاروں نے شکایت کی ہے کہ اسپیکر منحرف ارکان کے خلاف کارروائی میں تاخیر کررہے ہیں۔ اسپیکر کی جانب سے منحرف ارکان کو حال ہی میں نوٹس جاری کی گئی اور ارکان نے جواب داخل کرنے کیلئے وقت مانگا ہے۔ جن منحرف ارکان کے خلاف درخواست دائر کی گئی ان میں کڈیم سری ہری، ڈی ناگیندر، ٹی وینکٹ راؤ، پوچارم سرینواس ریڈی، ایم سنجے کمار، کے یادیا، بی کرشنا موہن ریڈی، پرکاش گوڑ، مہیپال ریڈی اور اے گاندھی شامل ہیں۔ بی آر ایس کو امید ہے کہ سپریم کورٹ منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کے حق میں فیصلہ سنائے گا۔1