بی جے پی تلنگانہ سے مایوس یا حکمت عملی میں تبدیلی

   

وزیراعظم اور مرکزی وزیرداخلہ کے دوروں کو مسلسل ملتوی کرنے پر پارٹی قائدین مایوس

حیدرآباد۔22جنوری(سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ سے مایوس ہوچکی ہے یا حکمت عملی میں تبدیلی لائی جا رہی ہے!ایک ماہ کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے دوروں کو ملتوی کئے جانے کے متعلق کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں بی جے پی کو زمینی سطح پر اپنے وجود کے مستحکم ہونے کا یقین باقی نہیں رہا اسی لئے بی جے پی کے مرکزی قائدین اپنے دوروںکو ملتوی کرنے لگے ہیں۔جاریہ ماہ کے دوسرے ہفتہ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی تلنگانہ کا دورہ کرتے ہوئے سکندرآباد میں ’’وندے بھارت ‘‘ ٹرین کو جھنڈی دکھانے والے تھے لیکن لمحہ آخر میں ان کے پروگرام کو منسوخ کردیا گیا اور ساتھ ہی اس بات کا اعلان کیا گیا کہ جاریہ ماہ کے اواخر میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ تلنگانہ کا دورہ کریں گے لیکن گذشتہ یوم وزیر اعظم کے آئندہ ماہ کے دورۂ تلنگانہ کے منصوبہ کے اعلان کے ساتھ ہی مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورۂ تلنگانہ کے ملتوی کئے جانے کی اطلاع دے دی گئی ہے اور کہا جار ہاہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر میں وزیر داخلہ کا دورہ تلنگانہ ملتوی کردیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور اب وزیرداخلہ امیت شاہ کے دورہ کو ملتوی کئے جانے کے بعد بی جے پی ریاستی قائدین میں مایوسی پیدا ہونے لگی ہے جبکہ دہلی میں ہوئے دو روزہ عاملہ کے اجلاس کے دوران تلنگانہ کی ستائش کے بعد بی جے پی قائدین کے حوصلوں میں کافی اضافہ ہوا تھا لیکن اب ان میں مایوسی پائی جانے لگی ہے ۔ذرائع کے مطابق پارٹی مرکزی قائدین ریاست میں متعین مبصرین سے رپورٹ وصول کرنے کے بعد اور زمینی حقائق سے آگہی کے بعد ہی اپنے دوروں کو ملتوی کررہے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے مبصرین جو ریاستی قائدین کی رپورٹ قومی قائدین کو روانہ کر رہے ہیں اس سے پارٹی کے ریاستی قائدین میں بھی ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور پارٹی قائدین اس سلسلہ میں قومی قائدین کو واقف کرواچکے ہیں۔