’’میرا کوئی ذاتی ایجنڈہ ہے نہ جھنڈا ، بی آر ایس کو مستحکم دیکھنا چاہتی ہوں‘‘
حیدرآباد۔ 30 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس کی ایم ایل سی کویتا نے کہا کہ بی جے پی سے ملنے والی کوئی بھی سیاسی جماعت فائدے میں نہیں رہی بلکہ عوام کی نظروں سے اوجھل ہوگئی جس کی وجہ سے انہوں نے بی آر ایس کے بی جے پی میں انضمام یا اتحاد کی کھل کر مخالفت کی۔ کویتا آج ضلع منچریال کے دورہ پر ہے۔ تلنگانہ جاگروتی کے قائدین نے بڑے قافلے میں کویتا کا خیرمقدم کیا مگر بی آر ایس کے قائدین اور کارکنوں نے کویتا کے اس پروگرام سے دوری اختیار کی۔ کویتا نے میڈیا سے پھر ایک مرتبہ غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی قائدین اور کارکنوں کے جذبات کو مکتوب کے ذریعہ پارٹی صدر تک پہنچا چکی تھی، لیکن ان کے مکتوب کو منظر عام پر لاتے ہوئے انہیں پارٹی میں باغی قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ وہ کئی مسائل اور مصیبتوں کا سامنا کرکے آج اس مقام پر پہنچی ہیں۔کویتا نے کہا کہ وہ اپنے والد اور پارٹی کے سربراہ کے سی آر سے ملاقات کرنا چاہتی تھی، لیکن ملاقات نہ ہوسکی۔ کویتا نے کہا کہ وہ بی آر ایس پارٹی کو مستحکم کرنے کی کوشش کررہی ہیں، ساتھ ہی پارٹی قائدین اور کارکنوں کے جذبات کو پارٹی صدر تک پہنچائی تھی، مگر پارٹی میں سوشیل میڈیا کے ذریعہ میرے خلاف من گھڑت کہانیاں گھڑی گئیں جس پر انہیں بے حد افسوس ہوا۔ وہ جب جیل میں تھی، تبھی بی آر ایس کو بی جے پی میں ضم کرنے کی بات سامنے آئی تھی، انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی، لیکن وہ بی آر ایس پارٹی کی وفاداری سپاہی ہے اور کے سی آر کی قیادت ہی میں کام کرنا چاہتی ہے۔ کسی اور کی قیادت انہیں قبول نہیں۔ بی آر ایس ایم ایل سی نے کہا کہ بی جے پی سے اتحاد کرنے والی کوئی بھی پارٹی اپنے آپ کو باقی نہیں رکھ پائی۔ کویتا نے کہا کہ ’’میرا کوئی ذاتی ایجنڈہ ہے نہ جھنڈا ہے، وہ بی آر ایس کے پرچم تلے ہی کام کررہی ہیں اور بی آر ایس کو مستحکم دیکھنا چاہتی ہیں۔ وہ ماضی میں پارٹی صدر کو پارٹی کے مسائل پر بھی کئی مکتوبات روانہ کرچکی تھیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میرے کسی مکتوب کا افشاء ہوا ہے۔ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، اس کی نشاندہی ہونی چاہئے اور اس کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جانی چاہئے۔‘‘ 2