بہت آساں ہونا مشترکہ دلوں میں تفریق
بات تو جب ہے کہ بچھڑوں کو ملایا جائے
مغربی بنگال اور ٹاملناڈو میں انتخابی مہم زوروں پر ہے ۔ آئندہ چند دنوں میں وہاں اسمبلی کیلئے ووٹ ڈالے جانے والے ہیں۔ ہر جماعت کی جانب سے رائے دہندوں کو رجھانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ۔ انتخابی ریلیوں اور جلسوں سے خطاب کیا جا رہا ہے ۔ روڈ شو کئے جا رہے ہیں۔ ہر طرح کی کوشش کی جا رہی ہے کہ رائے دہندوں کو راغب کرتے ہوئے ان کے ووٹ حاصل کئے جاسکیں۔ اس کوشش میںسماج میں تفریق پیدا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ ویسے تو ہر بار انتخابات کے دوران اس طرح کی کوششیں ہوتی ہیں۔ بی جے پی خاص طور پر فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکاتے ہوئے سیاسی اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ترقیاتی امور اور عوامی مسائل پر بات نہیں کی جاتی اور نہ ہی حکومت کے کارناموں کو پیش کرنے کی پارٹی میں ہمت ہوتی ہے ۔ جو انتخابی وعدے مودی حکومت نے 2014 کے انتخابات سے قبل کئے تھے ان پر بات کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاتی اور ہمارے ملک کا پالتو میڈیا بھی اسی نہج پر کام کرتا ہے ۔ حکومت سے سوال کرنے کی بجائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے مسائل کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے تاکہ عوام کی توجہ ہٹاتے ہوئے بی جے پی کو فائدہ پہونچایا جاسکے ۔ اب خاص طور پر مغربی بنگال کو نشانہ بناتے ہوئے انتخابی مہم میں سماج میں تفریق پیدا کرنے کی ہر سطح پر کوشش ہو رہی ہے ۔ بی جے پی کے قائدین بشمول وزیر اعظم اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں جن سے سماج میں دوریاںپیدا ہوتی ہوں۔ وزیر اعظم نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترنمول کانگریس نے لوٹ مار میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور اسے صرف در اندازوں کی ترقی اور بہتری سے سروکار ہے ۔ وزیر اعظم کا اشارہ کس جانب تھا یہ سارا ملک جانتا ہے ۔ وہ نام لینے کی بجائے اشاروں میں اپنی بات کہنا چاہتے تھے ۔ تاہم ملک کے وزیر اعظم کو اس طرح کی زبان یا لب و لہجہ استعمال کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی طرح کے بیانات آسام کے چیف منسٹر ہنمتا بسوا سرما کی جانب سے بھی دئے جا رہے ہیں۔
ہیمنتا بسوا سرما کا کہنا تھا کہ اس بار مغربی بنگال سے ترنمول کانگریس کا صفایا کرنا ضروری ہے ورنہ بنگلہ دیشی مسلمان ریاست پر قابض ہوجائیں گے ۔ یہ اس طرح کی باتیں ہیں جن کا کوئی امکان ہی نہیں ہوسکتا ۔ نہ کوئی بنگلہ دیشی ہندوستان کی ایک انچ زمین پر قبضہ کرسکتا ہے اور نہ دنیا کوئی اور ملک یہ ہمت کرسکتا ہے ۔ ہندوستان کی مسلح افواج ہندوستان کے تعلق سے منفی سوچ رکھنے والوں کو سبق سکھانے کی مکمل اہلیت رکھتی ہیں۔ تاہم اس طرح کی بیان بازی کا مقصد صرف اور صرف سیاسی اور انتخابی فائدہ حاصل کرنا ہے اورا س کیلئے سماج میں تفریق پیدا کی جا رہی ہے ۔ سماج کے دو بڑے طبقات کے مابین خلیج پیدا کی جا رہی ہے ۔د وریوں کو بڑھایا جا رہا ہے جبکہ ضرو رت اس بات کی ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول پیدا کیا جائے ۔ سماج میں اگر کچھ نفرتیں ہیں تو انہیں دور کیا جائے اور سماج کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کی بات کی جائے ۔ تاہم ان تمام مثبت پہلووں سے بی جے پی کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ صرف منفی سوچ کے ساتھ سیاست کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ مغربی بنگال میں بھی یہی کچھ کیا جا رہا ہے ۔ ٹاملناڈو کے تعلق سے اس طرح کی بیان بازی نہیں ہو رہی ہے حالانکہ وہاں بھی علاقائی اور دیگر مسائل کو اچھالنے میں کوئی کسر باقی نہیںر کھی جا رہی ہے ۔ بنگال کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سیاسی و انتخابی فائدہ کیلئے سماج میں نفرتوں کو فروغ دینے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔
ہندوستان چونکہ ایک جمہوری ملک ہے اس لئے یہاں انتخابات آتے اور جاتے رہیں گے ۔ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت کامیابی حاصل کرے گی اور کسی نہ کسی کو شکست کا سامنا بھی کرنا پڑیگا ۔ یہ ایک رواں دواں عمل ہے تاہم اس کی وجہ سے ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو متاثر کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیںدی جانی چاہئے ۔ پارٹیاں چاہے برسر اقتدار ہوں یا پھر اپوزیشن میں بیٹھی ہوں سبھی کو ملک کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک اور ریاستوں کے عوام کو بھی اس منفی سوچ کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے اور ترقی کو یقینی بنانے والی طاقتوں کا ساتھ دینے آگے آنا چاہئے ۔