ٹاملناڈو کے پارٹی عہدوں میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں
حیدرآباد۔ 7 ستمبر (سیاست نیوز) بی جے پی میں مسلمانوں کو نظرانداز کرنے پر ٹاملناڈو سے تعلق رکھنے والی کار ریسر علیشا عبداللہ نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ 3 سال قبل علیشا عبداللہ نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی اور ٹاملناڈو میں پارٹی کے استحکام میں اہم رول ادا کیا تھا۔ بی جے پی حالیہ دنوں میں ٹاملناڈو پارٹی یونٹ کے مختلف شعبہ جات میں تقررات کا اعلان کیا جس میں مسلم اقلیت کو نظرانداز کردیا گی۔ علیشا عبداللہ نے ٹاملناڈو کے مختلف پارٹی شعبہ جات میں مسلمانوں کو نظرانداز کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پارٹی نے عہدیداروں کی فہرست میں ایک بھی مسلمان کو شامل نہیں کیا ہے۔ مسلمانوں کو فراموش کئے جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے علیشا عبداللہ نے کہا کہ 4 ستمبر کو پارٹی نے مختلف محاذی تنظیموں کے عہدیداروں کا اعلان کیا جن میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق چیف منسٹر ٹاملناڈو کے اناملائی کے نظریہ سے متاثر ہوکر علیشا نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کا ماننا ہے کہ پارٹی دراصل مذہب اور ذات پات سے بالاتر ہوکر کام کرے گی۔ علیشا عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ہندوستان کی ایک نامور کھلاڑی کے طور پر انہیں کافی دکھ پہنچا ہے۔ میں نے پارٹی کے لئے 3 سال تک دن رات محنت کی تھی۔ بی جے پی کے حالیہ تقررات سے ثابت ہوتا ہے کہ پارٹی میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ پارٹی کے لئے میری تمام محنت رائیگاں ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28 صدور کے ناموں کا اعلان کیا گیا جن میں ایک بھی مسلمان اور کرسچن شامل نہیں ہے۔ علیشا عبداللہ نے پارٹی کے اس اقدام کو توہین قرار دیا ہے۔ 1