رام پنیانی
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت ناری شکتی اور خواتین کی بہبود کے بڑے بلند بانگ دعوے کرتی ہے اور خود کو خواتین کے کاز کی چمپئن قرار دیتی ہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو خواتین کی ترقی و بہبود سے متعلق مودی اور ان کی حکومت کے دعوے کھوکھلے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ سال 2023 کے دوران ایوان زیریں لوک سبھا میں خواتین کے لئے 33 فیصد نشستیں محفوظ کرنے والا خواتین ریزرویشن بل منظور کیا گیا لیکن افسوس کے مودی حکومت نے اب تک اسے نافذ نہیں کیا جس سے اس کی خواتین کے تئیں جھوٹی ہمدردی کا اظہار ہوتا ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوراں ہم سب نے دیکھا کہ اس ضمن میں لوک سبھا میں پیش کردہ ترمیمی بل منظور نہ ہوسکا کیونکہ وہ ایوان میں دو تہائی اکثریت کی تائید و حمایت حاصل کرنے سے قاصر رہا جس پر مودی جی نے مگر مچھ کے آنسو بہائے اور مودی کے آنسو بہانے کے باوجود حقیقت یہ ہیکہ 2023 میں اس کی منظوری کے بعد ضروری اقدامات کئے جاتے تو اسے 2024 کے انتخابات میں بھی نافذ کیا جاسکتا تھا۔ اب یہ ترامیم جن کے لئے دو تہائی ووٹ درکار تھے اس لئے ناکامی سے دوچار ہوئی کیونکہ اپوزیشن حکومت کا کھیل سمجھ چکی تھی دراصل حکومت نے اس ترمیم کو حد بندی Delimitation اور لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ سے چھوڑ دیا تھا۔ باالفاظ دیگر بی جے پی نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ جن سیاسی جماعتوں اور ان کے ارکان پارلیمان نے اس ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا وہ خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں 33 فیصد تحفظات کے خلاف نہیں تھے لیکن چونکہ اس اقدام کو حلقہ بندی سے جوڑدیا گیا تھا اس لئے ان کے پاس مخالفت کے سواء کوئی چارہ کار باقی نہیں رہ گیا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو اصل مسئلہ شمالی ہند اور جنوبی ہند کی ریاستوں میں آبادی کے اضافہ کا فرق تھا۔ شمالی ہند کی ریاستوں میں ٹی ایف آر (کل شرح پیدائش) جنوبی ریاستوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے حلقوں کی اس نئی حد بندی کی مشق سے شمالی ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی ملے گی جہاں ہندو قوم پرست بی جے پی کا اثر زیادہ مضبوط ہے۔ جنوبی ریاستیں اس بات سے خبردار ہیں اس لئے وہ پوری طاقت سے اس کی مخالفت کے لئے سامنے آئیں۔ بی جے پی اپوزیشن جماعتوں کو خواتین کی توہین و اہانت کا ذمہ دار ٹھہرارہی ہیں کیونکہ انہوں نے اس ترمیم کی مخالفت کی۔ خواتین کی نمائندگی کے لئے بی جے پی کی یہ ظاہری تائید و حمایت محض ایک دکھاوا ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے دیگر اقدامات عموماً انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے کئے گئے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی کی تحریک کے زمانے سے ہی جب کانگریس انگریزی استعمار کے خلاف قومی تحریک کی قیادت کررہی تھی اس نے بتدریج یہ یقینی بنایا کہ خواتین نہ صرف ہندو راشٹر کی تشکیل کے عمل کا حصہ نہیں بلکہ برطانوی راج کے خلاف تحریکوں میں بھی شامل تھیں۔ یہ خواتین کی زندگی کا ایک حوصلہ افزاء باب تھا۔ مختلف پہلوؤں سے قومی زندگی میں نمایاں ہونے کے بعد جوتیاپھولے اور ساوتری بائی پھولے نے خواتین کو زیور علم سے آراستہ کرنے کا کام شروع کیا۔ انہوں نے سماجی اور تعلیمی میدان میں بھی اپنی شرکت درج کروائی چھایا نیکاشاہ نے نشاندہی کی کہ کانگریس نے کئی خاتون صدور دیئے جن میں ایک خاتون وزیر اعظم ایک خاتون، وزیر اعلیٰ اور ایک خاتون صدر جمہوریہ شامل ہیں۔ بدقسمتی سے راجیو گاندھی کو جمہوری سطح کے ڈھانچوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لئے شروع کی گئی اس مہم کو شروع کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ اس لئے ہم سب نرندر مودی کے نظریہ کے ساتھ مل کر یہ عہد کریں کہ بی جے پی کے دور حکومت میں خواتین اور ہندوتوا قوم پرست سیاست کا کردار نظریاتی طور پر مضبوط اور نمایاں ہو۔ بی جے پی حقیقت میں آر ایس ایس کی سیاسی ونگ ہے اور جو مردانہ غلبہ کی حامل تنظیم ہے واضح رہے کہ جب لکشمی بائی کیلکر (1936) نے آر ایس ایس کے اس وقت کے سرنچالک ڈاکر ہیڈگوار سے درخواست کی کہ خواتین کو بھی آر ایس ایس کا حصہ بننے دیا جائے تب انہوں نے ذیلی تنظیم راشٹریہ سویکا سمیتی (آر ایس ایس) بنانے کا مشورہ دیا لیکن خواتین کو آر ایس ایس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ والنٹروں کے لئے ہے جبکہ خواتین کی تنظیم کو سمیتی (یہ اصطلاح خود منواسمرتی) کے نظریہ کے مطابق ہے۔ منواسمرتی آر ایس ایس نے ہمیشہ شائع کی اور آج بھی آر ایس ایس کے نظریئے کی بنیاد منواسمرتی کی مغربی اقدار کے خلاف جدوجہد اور اس کی مخالفت ہ۔ اس لئے اسے ختم کردینا چاہئے (راجندر سنگھ، یوجنیہ شری گروجی صفحہ 51) اور اس کی جگہ ہے مقدس کتاب منواسمرتی کو اپنانا چاہئے (جیسا کہ سدرشن جیسے سابق آر ایس ایس سنچالک نے کہا تھا) بی جے پی کی پالیسیوں میں یہ بھی جھلکتا ہے جیسا کہ گاندھی پیس پرائز نریندر مودی کی سربراہی میں گورکھپور کے ایک یوگا ہیٹ کو دیا گیا اس ایوارڈ ماڈل سے ظاہر ہوا کہ وہ خواتین جنہوں نے پچھلے 100 برسوں میں سماجی انجینئرنگ اور ثقافتی تبدیلیوں کے ذریعہ قابل ستائش کام کیا۔ انہوں نے آحر کار اس فورم اور مطالعہ کو نقصان پہنچایا۔ اکشیہ مکل نے اپنے تحقیقی مطالعہ ’’گیتا پریس اینڈ دی میکنگ آف ہندو انڈیا‘‘ میں لکھا ہے کہ گیتا پریس نے منواسمرتی کی تعلیمات کو عام چھوٹی کتابچوں کے ذریعہ بڑی مہارت سے پھیلادیا جو لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ سنگھ پریوار اور اس کی ذیلی تنظیموں کی سوچ و فکر یہی رہی کہ مردوں کے مقابلہ میں عورت کو کمتر حیثیت دینا اور زندگی کے مختلف مراحل میں جیسے باپ، شوہر اور بیٹے کے تابع رہنے کو ایک بہت بڑی عظمت بناکر پیش کرنا ہے ویسے بھی بی جے پی کی اپنی تاریخ ایسے توہین آمیز بیانات سے بھری پڑی ہے جو اس کے لیڈران نے دیئے ہیں اور جن میں خواتین کے خلاف قابل مذمت رسوم بشمول ستی کی تائید و حمایت کی گئی۔ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ستی کی رسم میں بیوہ کو شوہر کی چتا پر بیٹھاکر آگ لگادی جاتی تھی۔ روپ کنور واقعہ کے تناظر میں اس وقت کی بی جے پی نائب صدر وجے راجے سندھیا نے ستی کی حمایت میں ایک بہت بڑا جلوس نکالا جس میں ایک نعرہ لگاتے ہوئے کہا گیا کہ ستی کرنا نہ صرف ہندو خواتین کی ایک شاندار روایت ہے بلکہ یہ ان کا حق بھی ہے۔ اس معاملہ میں ایک اور لیڈر جن کا تعلق بی جے پی مہلا مورچہ سے ہے ہم بات کررہے ہیں مریدولا سنہا کی جو کچھ سال قبل گورنر گوا کے عہدہ پر فائز تھیں انہوں نے اپریل 1994 میں ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے شوہر کی جانب سے بیوی پر تشدد اور جہیز کے نظام کی حمایت کی تھی۔ ہمارے ملک میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے جس کا اندازہ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے سال 2021 ڈیٹا سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انکشاف کیا گیا کہ ہندوستان میں یومیہ اوسطاً 86 خواتین کا ایپ کہا گیا جبکہ ہندوستان میں ہر گھنٹہ خواتین کے خلاف جرائم کی کم از کم 49 شکایتوں کا اندراج عمل میں لایا گیا۔ بحیثیت مجموعی ایک لاکھ خواتین کی آبادی میں خواتین کے خلاف جرائم 2014 میں 56.3 سے بڑھ کر 2022 میں 66.4 ہوگئے۔ موجودہ حکومت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات سے کیسے نمٹا گیا ہے، خواتین کے خلاف پیش آئے جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات کو ہمارے میڈیا میں کیسا کوریج دیا گیا مثال کے طور پر اترپردیش میں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں کے ’’ضلع اناو میں‘‘ بی جے پی ایم ایل اے اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے ایک کم عمر لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی۔ اس کے بارے میں میڈیا میں کس طرح کا کوریج دیا گیا سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ سال 2018 کے دوران جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں ایک 8 سالہ مسلم لڑکی کا اغوا کرکے اس کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی اور پھر اس معصوم بچی کا قتل کردیا گیا۔ اترپردیش کے ہاترس میں سال 2020 کے دوران ایک دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی جبکہ ملک کی مشہور و معروف خاتون پہلوانوں نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایات درج کروائیں لیکن ان شکایتوں کو بری طرح نظرانداز کردیا گیا۔ دوسری طرف منی پور میں خواتین کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے برعکس بی جے پی کی خاتون ارکان پارلیمان ترمیمی بل کی شکست پر چیخ و پکار کررہی ہیں جبکہ اصل سوال یہ ہیکہ آخر اس بل کو نئی حد بندی سے کیوں جوڑا گیا۔