ترکی کیساتھ یونان کا حالیہ رویہ ناقابلِ فہم : صدر اردغان

   

انقرہ : صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ ترکی کے ساتھ یونان کا حالیہ رویہ ناقابل بیان ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ہم ایک رات اچانک آ سکتے ہیں‘‘ کے الفاظ کو وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ صدر اردغان نے بوسنیا ہرزیگوینا، سربیا اور کروشیا سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایک رات اچانک آ سکتے ہیں‘‘ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا یہ بیان انہوں نے یونان کے حوالے سے دیا تھاکیونکہ یونان یہ پیغام بالکل واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونان کا ترکی کے ساتھ حالیہ رویہ ناقابلِ فہم ہے۔ ایک طرف ایجیئن میں اس کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، ہمارے طیاروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ ایک طیارے ناٹو کے دائرہ کار میں فرائض ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کو ملنے والے ایس 400 میزائیلوں کو یونان واویلا مچارہا ہے جبکہ اس نے خود ایس 300 میزائیل خرید رکھے ہیں اور اس پر ابھی تک یونان نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔امریکہ کی جانب سے یونان میں اڈہ قائم کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر اردغان نے کہا کہ وہ جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (20-26 ستمبر) میں جائیں گے تو انہیں امریکی صدر بائیڈن سے ملاقات کرنے اور ان مسائل پر بات کرنے کا موقع ملے گا۔