ڈیزل سیس میں اضافہ۔ متبادل آمدنی کے راستے اپنانے سے 35 ڈپوز فائدے میں
حیدرآباد ۔ 25 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ آر ٹی سی 11 ہزار کروڑ روپئے کے خسارے میں پہنچ گئی ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد آر ٹی سی کے نقصانات میں ہر سال اضافہ ہوا ہے۔ علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد 31 مارچ 2015ء تک ٹی ایس آر ٹی سی 299.64 کروڑ روپئے خسارے میں تھی۔ ان 8 برسوں کے دوران صرف ایک سال 2022ء میں ہی تھوڑے نقصانات ہوئے ہیں۔ گذشتہ سال کے اواخر میں ڈیزل سیس کا آغاز کرنے اور ایک ماہ میں ہی اس میں ترمیم کرنے مزید اضافہ کیا گیا۔ آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے مختلف اقدامات کئے گئے۔ اخراجات کو گھٹایا گیا۔ متبادل راستے اپناتے ہوئے آمدنی میں اضافہ کرنے پر توجہ دی گئی جس سے نقصانات پر بڑی حد تک قابو پایا گیا۔ مالیاتی سال 2022ء ڈسمبر میں سب سے کم 473 کروڑ روپئے کے نقصانات ہوئے۔ یہی سب سے کم نقصانات ہیں۔ سال 2013ء میں ایمپلائز کی تنخواہوں پر نظرثانی کرنا تھا لیکن سال 2015ء میں نظرثانی کی گئی۔ ملازمین کے ڈیمانڈ سے زیادہ حکومت نے تنخواہوں میں 44 فیصد کا اضافہ کیا جس سے تلنگانہ آر ٹی سی پر سالانہ 850 کروڑ روپئے کا نیا اضافی بوجھ عائد ہوگیا لیکن آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے عہدیداروں کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ اس سال آر ٹی سی کو 1150 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔ آر ٹی سی کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ سال 2019ء میں آر ٹی سی کی تاریخ کی سب سے بڑی 52 دنوں تک ہڑتال ہوئی، جس سے 1002 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا اس کے فوری بعد کورونا بحران سے دو سال تک بسیس ٹھیک طرح سے چل نہیں پائی، جس سے بھی نقصانات میں اضافہ ہوگیا۔ خسارے میں چلنے والے آر ٹی سی کو منافع بخش ادارے میں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اصلاحات کئے گئے جس سے 35 ڈپوز فائدے میں آ گئے۔ مزید 20 ڈپوز کے نقصانات گھٹ گئے۔ حکومت نے گذشتہ سال بجٹ میں 1500 کروڑ روپئے مختص کیا۔ تاہم صرف 600 کروڑ روپئے جاری ہوئے۔ن