بیشتر سرکاری احکامات صرف اطلاعات پر منحصر ، مختلف تنظیموں اور اداروں کی حکومت سے نمائندگی
حیدرآباد۔22۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی کانگریس نے شفاف حکمرانی کو یقینی بنانے اور سرکاری فیصلوں سے عوام کو واقف کروانے کی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے باوجود حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے سرکاری احکامات (GO) کو آن لائن جاری کئے جانے کے اقدامات سے اب بھی گریز کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ بیشتر محکمہ جات کے عہدیداروں کی جانب سے سرکاری احکامات کو آن لائن جاری کئے جانے کی مخالفت کی جا رہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں واضح موقف اختیار کیا جاچکا ہے۔ تشکیل تلنگانہ سے قبل ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے تمام سرکاری احکامات کو ویب سائٹ پر پیش کیا جاتاتھا اور جن احکامات کو مخفی رکھنا ہوتا تھا ان کی مکمل تفصیلات کے بجائے ان سرکاری احکامات کے نمبر اور وہ کس محکمہ سے اور کس زمرہ میں جاری کئے گئے ہیں ان کی تفصیلات پیش کی جاتی تھیں لیکن 2014 کے بعد بتدریج سرکاری احکامات کو آن لائن جاری کرنے کا سلسلہ بند کیا جانے لگا اور بیشتر اہم سرکاری احکامات کو آن لائن پیش کرنے کے بجائے محض جاری کئے جانے کی اطلاع دے دی جانے لگی تھی ۔ حکومت کی جانب سے احکامات کو آن لائن ویب سائٹ پر پیش نہ کئے جانے کے سلسلہ میں 10 برسوں کے دوران متعدد مرتبہ متوجہ کروایا گیا تھا لیکن سابقہ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی کاروائی نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں ریاستی حکومت کے خلاف بعض غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے عدالت سے رجوع ہونے کا بھی اعلان کیا گیا تھا لیکن اب ریاست میں اقتدار تبدیل ہوچکا ہے اس کے باوجود بھی ریاستی حکومت کے بیشتر محکمہ جات کی جانب سے جاری کئے جانے والے سرکاری احکامات کو آن لائن پیش کرنے سے گریز کیا جارہا ہے جبکہ سرکاری احکامات کی اجرائی کے ساتھ ہی اسے عوام کے سامنے پیش کیا جانا شفافیت میں ترجیحی عمل شمار کیا جاتا ہے۔ ریاستی حکومت کو مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں اور دانشوروں نے تحریری اپیل روانہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری فیصلوں سے متعلق حکم ناموں کی آن لائن اجرائی کو بحال کریں تاکہ اگر ان سرکاری احکامات پر کسی کو کوئی اعتراض ہویا کوئی احکام عوامی مفادات کے مغائر ہوں تو ان کے خلاف نمائندگی کرنے کے علاوہ حکومت کو متوجہ کروانے میں پیش آنے والی مشکلات کو دور کیا جاسکے۔م