تلنگانہ میں بھی برڈ فلور کی دہشت ، 400 مرغیاں فوت

,

   

ورنگل میں120مرغیاں مردہ پائی گئیں ۔ پداپلی میں 300 مرغیوں کے مرنے کی اطلاع

حیدرآباد۔ریاست تلنگانہ کے دو اضلاع میںورنگل اور پیداپلی میں 400 مرغیوں کے فوت ہونے کی اطلاع کے ساتھ ہی ریاست بھر میں برڈ فلو کی دہشت پیدا ہونے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جو مرغیاں فوت ہوئی ہیں ان کے نمونوں کو حیدرآباد روانہ کیا گیا ہے تاکہ ان کی جانچ کی جاسکے۔ گذشتہ ایک ہفتہ سے ملک بھر میں برڈ فلو کی اطلاعات کے دوران 5ریاستوں نے برڈ فلو کی توثیق کرتے ہوئے احتیاطی اقدامات کا اعلان کیا تھا اور 70ہزار سے زائد مرغیوں اور لاکھوں انڈوں کو تلف کردیا گیا ہے لیکن ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا تھا اور خود ریاستی وزیر افزائش مویشیاں مسٹر ٹی سرینواس یادو نے یہ کہا کہ ریاست تلنگانہ میں برڈ فلو کے کوئی اثرات نہیں ہیں لیکن آج ایک دن میں 400 مرغیوں کی موت کے ساتھ ہی ریاست بھر میں دہشت پیدا ہوگئی ہے اور مرغیوں کے فارم کے ذمہ داروں کی جانب سے مرغیوں کی صورتحال اور ان میں پائی جانے والی بیماری کے متعلق بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ ورنگل میں 120مرغیاں فارم میں مردہ پائے جانے کے بعد ضلع میں برڈ فلو کی دہشت پیدا ہوگئی اور فارم کے ذمہ دارنے اس بات کی توثیق کی اسی طرح پیداپلی میں 300 مرغیوں کے فوت ہونے کی اطلاع کے ساتھ ہی دہشت پائی جانے لگی ہے لیکن دونوں اضلاع میں عہدیداروں کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ ان مرغیوں کی اموات برڈ فلو کے سبب نہیں ہوئی ہیں بلکہ انہیں وقت پر ٹیکہ نہ دینے کی وجہ سے مرغیاں فوت ہوئی ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں برڈ فلو کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے اختیار کردہ موقف کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ پولٹری صنعت کو نقصان سے بچانے کیلئے حکومت نے برڈ فلو کے معاملہ میں سخت گیر موقف اختیار نہیں کیا ہے جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے تمام ریاستو ںکو برڈ فلو کے سلسلہ میں الرٹ جاری کرتے ہوئے احتیاط برتنے اور چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس طرح کے کسی بھی واقعہ کی صورت میں مرکزی وزارت صحت کو فوری طور پر واقف کروایا جائے۔ ریاست کے دو اضلاع میں 400 سے زائد مرغیوں کے فوت ہونے کے ساتھ ہی ریاست بھر کے دیگر اضلاع اور دیہی علاقو ںمیں بھی مرغیوں کی پرورش کرنے والوں کی جانب سے احتیاطی اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ بڑے صنعتکاروں کی جانب سے پیداوار پر کنٹرول کرنے کے سلسلہ میں بھی غور کیا جانے لگا ہے۔