تلنگانہ میں خاتون آئی اے ایس عہدیدار کو بھی تحفظ حاصل نہیں

   

ٹوئیٹر پر ریونت ریڈی کا ریمارک، برقی اداروں میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

حیدرآباد۔/22 جنوری، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے ریمارک کیا کہ چیف منسٹر کے دفتر میں برسرخدمت خاتون عہدیدار کو تحفظ حاصل نہیں ہے عام خواتین کا کیا ہوگا۔ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر دفتر میں برسرخدمت آئی اے ایس عہدیدار سمیتا سبھروال کے ٹوئیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کے اقتدار میں کم سے کم حکمرانی اور زیادہ سے زیادہ سیاست کا یہ نتیجہ ہے۔ حیدرآباد کے سنگارینی کالونی میں چھ سالہ لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ معصوم لڑکی ہی نہیں بلکہ چیف منسٹر کے دفتر برسر خدمت اعلیٰ عہدیدار کو بھی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو خبردار اور ہوشیار ہوجانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن و ضبط کی صورتحال اور خاص طور پر خواتین کے تحفظ کا معاملہ ابتر ہوچکا ہے۔ جب خاتون اعلیٰ عہدیدار کو تحفظ حاصل نہیں تو پھر عام خواتین کا کیا ہوگا۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر آفس میں سکریٹری سمیتا سبھروال کی قیامگاہ پر کل رات ایک تحصیلدار نے جبراً گھسنے کی کوشش کی تھی جسے سبھروال کی شکایت پر گرفتار کرلیا گیا۔ سمیتا سبھروال نے ٹوئیٹر پر کل رات پیش آئے اس واقعہ کو انتہائی بھیانک تجربہ سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس واقعہ سے خواتین کو اپنی سلامتی کی فکر کرنی چاہیئے۔ ہمیشہ اپنے مکانات کے دروازے بند کرنے پر توجہ دیں۔اسی دوران ریونت ریڈی نے ایک اور ٹوئیٹ کرتے ہوئے تلنگانہ میں برقی اداروں کے معاشی بحران کیلئے حکومت کو ذمہ دار قراردیا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ابتداء سے کہہ رہی ہے کہ یادادری۔ بھدرادری پراجکٹس کی تعمیر میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ برقی ادارہ کے منیجنگ ڈائرکٹر پربھاکر راؤ اور رگھوما ریڈی نے خود مالی بحران کا اعتراف کیا ہے۔ ریونت ریڈی نے مرکزی حکومت سے برقی اداروں میں بے قاعدگیوں کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ر