بی سی کمیشن کو ایکشن پلان تیار کرنے چیف منسٹر کا مشورہ، ماہرین تعلیم، جہد کاروں اور ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیداروں سے مشاورت
حیدرآباد 20 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کے آغاز کیلئے حکومت نے سماج کے مختلف طبقات سے مشاورت کا عمل شروع کیا ہے۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں تلنگانہ میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کا وعدہ کیا تاکہ آبادی کے حساب سے کمزور طبقات کو تحفظات اور سرکاری اسکیمات میں حصہ داری فراہم کی جائے۔ ریونت ریڈی حکومت کی تشکیل کو 5 ماہ مکمل ہوچکے ہیں اور حکومت نے تاحال 5 ضمانتوں پر عمل کا آغاز کردیا ہے۔ لوک سبھا کی انتخابی مہم کے دوران راہول گاندھی نے تلنگانہ عوام کو بھروسہ دلایا تھا کہ انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد ذات پات پر مبنی مردم شماری کا آغاز ہوگا۔ تلنگانہ کمیشن فار بیک ورڈ کلاسیس نے مردم شماری کیلئے دانشوروں، پروفیسرس، سابق آئی اے ایس عہدیداروں، جہدکاروں و پروفیشنلس سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مردم شماری کے آغاز کے لئے حکومت کو رپورٹ پیش کی جاسکے۔ کمیشن کی ممبر سکریٹری بی بالا مایا دیوی نے مردم شماری کے مسئلہ پر تشکیل دی گئی عوامی کمیٹی سے رائے طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی سی کمیشن کو مشورہ دیا تھا کہ وہ حکومت کو ایکشن پلان پیش کرے۔ مردم شماری پر پیوپلز کمیٹی نے چیف منسٹر سے خواہش کی ہے کہ وہ مردم شماری کا کام سنجیدگی سے انجام دہی کے لئے قانون سازی کریں۔ قانون سازی کی صورت میں حکومت کے تمام محکمہ جات مردم شماری میں تعاون کے لئے مجبور ہوجائیں گے۔ پیوپلز کمیٹی نے سماجی اور معاشی سروے کے لئے 7 رکنی کمیٹی کی تشکیل کی سفارش کی ہے۔ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کے ذریعہ کمزور طبقات کی حقیقی آبادی کا پتہ چلایا جائے گا۔ مردم شماری دراصل ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقات کے ایکسرے کی طرح ہوگی۔ پیوپلز کمیٹی نے ماہرین تعلیم پروفیسرس پدمجا شاہ، پروفیسر ایس سمہادری، پروفیسر کے مرلی منوہر، پروفیسر پی نریندر بابو، ریٹائرڈ آئی اے ایس اے مرلی، پروفیسر ٹی ایل ویشویشور راؤ اور دوسرے شامل ہیں۔ کمیٹی نے حال ہی میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے بی سی کمیشن کی ذمہ داریوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ماہرین کی یہ کمیٹی 22 مئی کو اسٹیٹ بی سی کمیشن کے صدرنشین اور ارکان سے ملاقات کرے گی۔ ذات پات پر مبنی سروے سے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے علاوہ اقلیتوں کی بھی حقیقی آبادی کا پتہ چلانے میں مدد ملے گی۔ تلنگانہ میں اقلیتوں کو تعلیم اور روزگار میں 4 فیصد تحفظات حاصل ہیں اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے۔ مردم شماری کی بنیاد پر اگر تحفظات میں اضافہ کیا جاتا ہے تو قانون سازی کی بنیاد پر عدالت میں تحفظات کے دفاع میں مدد ملے گی۔ اُمید کی جارہی ہے کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے مردم شماری سے مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی حقیقی صورتحال منظر عام پر آئے گی۔ سابق بی آر ایس حکومت نے مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی پسماندگی کا جائزہ لینے سدھیر کمیشن قائم کیا تھا۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار سدھیر نے مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے حکومت کو ایک جامع رپورٹ پیش کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سدھیر کمیشن نے مسلمانوں کو 10 فیصد تحفظات کی سفارش کی تھی لیکن بی آر ایس حکومت نے موجودہ 4 فیصد تحفظات کو برقرار رکھا اور سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کا بہانہ بناکر تحفظات کے فیصد میں اضافہ سے گریز کیا۔ 1