حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ میں آبی اور نایاب پرندوں کی چہچہاہٹ بھی بڑھ رہی ہے ۔ محفوظ دامن اور دریا کے کنارے نایاب پرندوں کی رہائش گاہ بن گئے ہیں ۔ ساحلی علاقوں گوداوری ، کرشنا اور پینگنگا میں غیر ملکی ہجرت کرنے والے پرندوں کا شور بڑھ گیا ہے ۔ اب تک پرندوں کی 432 سے زیادہ اقسام کی شناخت کی جاچکی ہے ۔ محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے بتایا کہ پرندے دور دراز مقامات جیسے روس ، منگولیا ، افریقہ ، آسٹرلیا ، ویتنام وغیرہ سے تلنگانہ کی جانب ہجرت کررہے ہیں ۔ اتوار کو قومی پرندوں کے دن ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہیں ۔ ملک میں 566 اور تلنگانہ میں 9 پناہ گاہیں ہیں جس کا رقبہ 5672 مربع کیلو میٹر ہے ۔ پاکالا ، ایٹوناگارم ، پرانا ہیٹا ، کوال ، شیوارم ، منجیرا ، پوچارم ، کیراسانی ، امر آباد ، کے پناہ گاہیں حیاتیاتی تنوع کی آماجگاہ بن گئی ہیں ۔ فاریسٹ واگ ٹیل ، بلیک ماجا ، لیگرفالکن ، ڈسکی ایگل الو ، سپارٹ بلیڈ الو ، چھوٹے پرٹینکول ، ریڈکرسٹڈ پوچارڈ ، کامن کنگ فشر ، بلیک شولڈرڈ کلافٹ ، کم سلمباکک ، ووڈ پیکر ، اورینٹل ہنس براڈ ، انڈین کورمورنت ، سپاٹڈ اولٹ ، کامن ہویو ، براؤن ووڈ شریک ، ایشی کراونڈ اسپیرولارک ، نرکبوتر ، کامن ہاک کو ، شیک ، جنگی آنکھوں سالا بوزاوڈ ، و دیگر پرندوں کی 310 اقسام ہیں ۔ دنیا میں اب تک پرندوں کی کل 10,906 اقسام کی شناخت کی جاچکی ہیں ۔ زوالوجیکل کے سروے آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہندوستان میں پرندوں کی 1353 اقسام رہتی ہیں ۔ یہ پرندوں کی کل انواع کا 12.4 فیصد ہے ۔ اور ایسی اطلاعات ہیں کہ ماضی میں تلنگانہ میں پرندوں کی 380 اقسام کی شناخت کی گئی ہے ۔ حال ہی میں کچھ نئی پرجاتیوں کی شناخت کے ساتھ ان کی تعداد 432 تک بڑھ گئی ہے ۔ نلاملا میں امرآباد ٹائیگر ریزو نے اب تک پرندوں کی 310 اقسام کی شناخت کی ہے ۔ نایاب پرندے جیسے فاریسٹ وانیٹیل ، فاریسٹ کالج و دیگر پرندے نلاملا میں گونج رہے ہیں ۔ یہ نایاب پرندے منجیرا اور پرانا ہتیا پناہگاہوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ریت کی کانکنی ، سنگارینی کول آپریشن اور آلودگی جیسی سرگرمیاں پرندوں کی بقاء پر شدید اثر ڈال رہی ہیں ۔ فصلوں میں استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات پرندوں کے لیے جان لیوا ثابت ہورہی ہیں ۔۔ ش