بی جے پی اور بی آر ایس کے اہم قائدین کانگریس سے رابطے میں ، ٹکٹ ملنے کے اشارے کے منتظر، پارٹی کی نئی انچارج کا آئندہ ہفتہ دورہ
حیدرآباد ۔ 27 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی سے پر جوش رہنے والی کانگریس پارٹی نے آرام کرنے کے بجائے لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی آر ایس اور بی جے پی کے کئی قائدین کانگریس سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ ٹکٹ کا تیقن ملنے پر کانگریس میں شامل ہونے کا یقین دلا رہے ہیں ۔ چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ریونت ریڈی مصروف ترین دن گذار رہے ہیں ۔ ایک طرف نظم و نسق پر اپنی پکڑ مضبوط کررہے ہیں ۔ بڑے پیمانے پر آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کے تبادلے کررہے ہیں ۔ دوسری طرف مختلف محکمہ جات کا جائزہ اجلاس طلب کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ پارٹی کے تنظیمی امور پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ کانگریس کے باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس ہائی کمان تلنگانہ سے 10 لوک سبھا حلقوں پر کانگریس کی کامیابی کی امیدیں لگائے ہوئے ہیں ۔ تاہم چیف منسٹر ریونت ریڈی 17 کے منجملہ 15 لوک سبھا حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے کام کررہے ہیں ۔ اس سلسلے کے حصہ کے طور پر سونیا گاندھی کو تلنگانہ کے ایک لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس پولیٹیکل آفیرس کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ رائے سے قرار داد منظور کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر نے سابق 10 متحدہ اضلاع میں وزراء کو انچارجس نامزد کرتے ہوئے حکومت کی فلاحی اسکیمات کا جائزہ لینے کے علاوہ لوک سبھا انتخابات کے لیے انہیں متحرک کردیا ہے ۔ کانگریس حکومت 6 ضمانتوں پر عمل کرتے ہوئے عوام کی زیادہ سے زیادہ تائید حاصل کرنے میں مصروف ہوگئی ہے ۔ ریاست کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی شاندار کامیابی کے بعد کانگریس کے قائدین اور کیڈر میں نیا جوش و خروش پیدا ہوگیا ہے ۔ دوسری جانب بی آر ایس اور بی جے پی کے بیشتر قائدین کانگریس سے رابطہ بنائے ہوئے اور کانگریس قائدین ان سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے چند متحدہ اضلاع محبوب نگر ، نلگنڈہ ، کھمم اور کریم نگر میں غیر معمولی مظاہرہ کیا ہے ۔ ماضی میں حلقہ لوک سبھا کریم نگر سے مقابلہ کرنے والے پونم پربھاکر نے اس مرتبہ اسمبلی کیلئے مقابلہ کیا اور کامیابی کے بعد انہیں ریاستی کابینہ میں شامل کیا ہے ۔ فی الحال کریم نگر لوک سبھا کی نمائندگی بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بنڈی سنجے کررہے ہیں انہیں شکست دینے کیلئے کانگریس پارٹی خصوصی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے کام کررہی ہے ۔ چند قائدین کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے ، جس میں بی جے پی کے قائد ایٹالہ راجندر کا نام بھی شامل ہونے کی اطلاعات گشت کررہی ہے ۔ اس طرح چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی کے قائد سابق رکن پارلیمنٹ کونڈا ویشویشور ریڈی حلقہ لوک سبھا محبوب نگر سے بی جے پی کی قومی نائب صدر ڈی کے ارونا بھی کانگریس سے رابطے میں ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ اس کے علاوہ ناگر کرنول کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بھی کانگریس کے رابطہ میں ہے ۔ اس کے علاوہ بی آر ایس کے دوسرے قائدین بھی کانگریس کے چند اہم قائدین سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ کانگریس کے چند سینئر اور اہم قائدین کے علاوہ اسمبلی انتخابات میں جنہیں ٹکٹ سے محروم کیا گیا ہے اور انہیں لوک سبھا ٹکٹ دینے کا تیقن دیا گیا ہے وہ بھی ٹکٹ کیلئے دوڑ دھوپ شروع کرچکے ہیں ۔ پارٹی ہائی کمان نے تلنگانہ کے بشمول چند ریاستوں کے انچارجس کو تبدیل کردیا ہے ۔ تلنگانہ کی نئی انچارج دیپاداس مونشی جنوری کے پہلے ہفتہ میں حیدرآباد پہنچ کر اپنے نئے عہدے کا جائزہ لیں گی ۔ انہوں نے دہلی میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہ کہ وہ تلنگانہ کے چپہ چپہ سے واقف ہیں ۔ پارٹی کے تمام قائدین سے اسمبلی انتخابات کے دوران رابطے میں تھیں لہذا انہیں لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں میں کوئی مشکلات نہیں ہوں گی۔ کانگریس نے سونیا گاندھی کے تلنگانہ سے مقابلہ کرنے کی قرار داد منظور کی ہے اور تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کو اس سے واقف کرادیا گیا ہے ۔ انہیں یقین ہے کانگریس پارٹی تلنگانہ کے لوک سبھا انتخابات میں بھی اسمبلی انتخابات کی تاریخ دہراتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی ۔ 2