کے سی آر شکست کے بعد فارم ہاؤز تک محدود، چیف منسٹرریونت ریڈی کا جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد ۔ 7 ڈسمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس حکومت ایک سال میں کئی وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے عوام کا آشیرواد حاصل کرچکی ہے جبکہ شکست کے بعد کے سی آر فارم ہاوز میں آرام کررہے ہیں۔ ضلع نلگنڈہ میں میڈیکل کالج کے افتتاح اور نرسنگ کالج کا سنگ بنیاد رکھنے اور مختلف ترقیاتی کاموں میں حصہ لینے کے بعد گندم واری گڈم میں منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کی تحریک میں ضلع نلگنڈہ کا رول ناقابل فراموش ہے۔ تحریک کے دوران زندگی قربان کرنے والے نوجوان سریکانت چاری کا تعلق بھی ضلع نلگنڈہ سے ہے۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کیلئے وزارت کی قربانی دی ہے۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دورحکومت میں ضلع نلگنڈہ کے ساتھ بہت زیادہ ناانصافیاں ہوئی ہیں۔ نلگنڈہ کو ترقی دینے کیلئے کانگریس کے دورحکومت میں جو پراجکٹس کا آغاز کیا گیا تھا بی آر ایس کے دورحکومت میں اس کو نظرانداز کردیا گیا۔ بی آر ایس کے دورحکومت میں سماج کے تمام طبقات سے ناانصافی ہوئی تمام شعبے پسماندگی کا شکار ہوگئے۔ کے سی آر نے عوام کی فکر کرنے کے بجائے اپنے ارکان خاندان کی سیاسی بیروزگاری کو دور کیا ہے۔ حقیقی بیروزگار نوجوانوں کو روزگار نہیں دیا گیا۔ اس طرح کسانوں، خواتین، طلبہ اور نوجوانوں سے ناانصافی کی گئی۔ کانگریس کو شکست ہونے کے باوجود اس کے ارکان اسمبلی اور پارٹی کے قائدین عوام کے درمیان رہے عوامی مسائل کو اٹھاتے رہے لیکن 10 سال تک حکومت کرنے والے کے سی آر بی آر ایس کو شکست ہوجانے کے بعد عوام کے درمیان رہنے اور اسمبلی پہنچ کر حکومت کو مشورے دینے کے بجائے فارم ہاؤز میں آرام کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بی آر ایس حکومت نے تلنگانہ کو 7 لاکھ کروڑ روپئے کا مقروض کردیا۔ ریاست کی مالی صورتحال بہتر نہ ہونے کے باوجود مالی ڈسپلن کے ساتھ کانگریس حکومت بی آر ایس کے دورحکومت میں کئے گئے قرض کو ادا کرتے ہوئے کانگریس کی جانب سے عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کررہی ہے۔ 6 گیارنٹی پر عمل کیا جارہا ہے۔ کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک تقریباً 21 ہزار کروڑ روپئے کے قرض معاف کئے گئے۔ ریاست میں حکومت تشکیل دینے کے پہلے سال 55 ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔ ریاست کے 100 اسمبلی حلقوں میں انٹی گریٹیڈ اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ شہر اور دیہی علاقوں کو مساوی ترقی دینے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ریاست میں اپوزیشن جماعتیں تعمیری رول ادا کرنے کے بجائے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں۔ ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے امتحانات کا انعقاد کرنے پر ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ عدلیہ سے رجوع ہورہے ہیں موسیٰ ندی کو ترقی دینے کی مخالفت کی جارہی ہے۔ کمپنیوں کے قیام پر اعتراضات کئے جارہے ہیں۔ لگچرلہ میں بی آر ایس کی جانب سے کلکٹر پر حملہ کیا گیا ہے۔ تمام رکاوٹوں کے باوجود کانگریس حکومت اپنے منصوبے پر عمل کررہی ہے۔ دوسری جانب مرکز میں بی جے پی کی حکمرانی ہے۔ مرکزی حکومت تلنگانہ سے سوتیلا سلوک کررہی ہے۔ مرکزی بجٹ، ریلوے بجٹ میں تلنگانہ سے ناانصافی کی گئی۔ تلنگانہ میں سیلاب کی تباہی کو بھی فراموش کردیا۔ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے دونوں مرکزی وزراء، مرکز کو تلنگانہ سے فنڈز اسکیمات، پراجکٹس لانے میں پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ بی آر ایس اور بی جے پی خفیہ سازباز کرتے ہوئے تلنگانہ میں ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ حکومت کے خلاف گمراہ کن جھوٹی مہم چلارہے ہیں مگر حکومت کی کارکردگی سے عوام پوری طرح مطمئن ہیں۔ مقامی اداروں کے انتخابات میں دونوں جماعتوں کا صفایا ہوجائے گا۔2