ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار مرلی سے مشاورت، 2 لاکھ جائیدادوں پر تقررات اہم نشانہ
حیدرآباد۔/17 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے ایک سال میں 2 لاکھ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کے وعدہ کی تکمیل کیلئے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی تشکیل جدید پر توجہ مرکوز کی ہے۔ موجودہ کمیشن کے صدرنشین اور بعض ارکان نے استعفی دے دیا تاکہ حکومت کو نئے کمیشن کی تشکیل کا موقع فراہم کیا جائے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کمیشن کے معاملات کی عدالتی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ گذشتہ حکومت کے دوران امتحانی پرچہ جات کا افشاء عمل میں آیا جس میں بعض عہدیداروں اور ارکان کے نام منظر عام پر آئے۔ چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالتے ہی ریونت ریڈی نے پبلک سرویس کمیشن پر توجہ مرکوز کی۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر ٹی سوندرا راجن کی جانب سے صدرنشین کمیشن جناردھن ریڈی کے استعفی کی منظوری کے فوری بعد کمیشن کی تشکیل جدید عمل میں آئے گی۔ چیف منسٹر 2 لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے جاب کیلنڈر جاری کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار اے مرلی کو پبلک سرویس کمیشن کا صدرنشین مقرر کیا جاسکتا ہے۔ جئے شنکر اگریکلچر یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اے جانیا کو تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائیر ایجوکیشن کا صدرنشین مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں ماہرین تعلیم سے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ملاقات کی۔ واضح رہے کہ مرلی نے چند سال قبل رضاکارانہ سبکدوشی اختیار کرلی تھی۔ وہ کلکٹر بھوپال پلی کے عہدہ پر فائز رہے اور آندھرا پردیش حکومت کے مشیر برائے محکمہ تعلیم کے عہدہ پر فائز رہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے سخت گیر رویہ کے بعد موجودہ کمیشن کے صدرنشین اور بعض ارکان نے اپنے استعفی گورنر کو روانہ کردیئے جو تاحال قبول نہیں ہوئے ہیں۔