تلنگانہ کانگریس قائدین کا دہلی میں کے سی وینو گوپال کے ساتھ اہم اجلاس

   

کابینہ میں توسیع ، نامزد عہدے اور پارٹی عاملہ امور زیر بحث، راہول گاندھی کا آئندہ ماہ دورہ تلنگانہ

حیدرآباد۔/15 جنوری، ( سیاست نیوز) جنرل سکریٹری اے آئی سی سی تنظیمی امور کے سی وینوگوپال کی قیامگاہ پر تلنگانہ کانگریس قائدین کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تنظیمی امور کے علاوہ راہول گاندھی کے مجوزہ دورہ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف منسٹر ریونت ریڈی، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی، پونم پربھاکر، ڈی سیتکا، پی سرینواس ریڈی، دامودھر راج نرسمہا، کونڈہ سریکھا اور سینئر قائدین شریک تھے۔ تقریباً دیڑھ گھنٹہ تک کے سی وینوگوپال نے تلنگانہ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس قائد راہول گاندھی فروری کے پہلے یا دوسرے ہفتہ میں تلنگانہ کا دورہ کریں گے اور سمودھان بچاؤ ریالی سے خطاب کریں گے۔ پردیش کانگریس کمیٹی نے 27 جنوری کو راہول گاندھی کے دورہ کی تجویز پیش کی تھی لیکن ہائی کمان نے فروری کے پہلے یا دوسرے ہفتہ میں دورہ کو قطعیت دینے سے اتفاق کیا ہے۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سوریا پیٹ یا کھمم میں راہول گاندھی کا جلسہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ ماہ کے اواخر تک نامزد عہدوں اور کارپوریشنوں کے صدورنشین کے تقررات مکمل کئے جائیں گے۔ کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر چیف منسٹر اور ہائی کمان فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پردیش کانگریس کمیٹی کی عاملہ کی تشکیل پر بات چیت کی گئی۔ ایسے قائدین کو پارٹی عہدے دیئے جائیں گے جو عوام کے درمیان ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ پردیش کانگریس کی عاملہ پر جلد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی دوران باوثوق ذرائع نے بتایا کہ کے سی وینوگوپال سے ملاقات کے دوران تلنگانہ کابینہ کی توسیع پر بھی غور کیا گیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہائی کمان سے خواہش کی کہ طویل عرصہ سے زیر التواء توسیع کی اجازت دی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ 6 وزارتی نشستوں کیلئے پارٹی میں دعویداروں کی تعداد 30 سے زائد ہے جس کے نتیجہ میں ہائی کمان کو دشواری پیش آرہی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے موقع پر ہائی کمان نے بعض قائدین کو وزارت کا وعدہ کیا تھا ۔ اس کے علاوہ مختلف طبقات کی نمائندگی بھی ابھی باقی ہے، گزشتہ ایک سال میں کابینہ میں ایک بھی مسلم نمائندہ شامل نہیں کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے بیرونی دورہ سے واپسی کے بعد کابینہ میں توسیع پر قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔1