تلگو ریاستوں میں برقی بقایا جات کا تنازعہ ہائی کورٹ پہنچ گیا

   

تلنگانہ کے خلاف مرکز کارروائی نہ کرے، بقایا جات پر حلفنامہ داخل کرنے 18 اکٹوبر تک مہلت
حیدرآباد۔/28 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج تلگو ریاستوں میں برقی بقایا جات کے تنازعہ کی سماعت کی۔ آندھرا پردیش کے برقی اداروں کو 7000 کروڑ کے بقایا جات ادا کرنے کیلئے مرکز نے تلنگانہ حکومت کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ مرکزی وزارت برقی کی جانب سے جاری کردہ مکتوب کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ جسٹس پی نوین راؤ اور جسٹس سامبا شیوا نائیڈو پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے سماعت کی۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل دشنت داوے اور آندھرا پردیش کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ سی وی موہن ریڈی نے دلائل پیش کئے جبکہ مرکز کے موقف کی وضاحت ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سوریا کرن ریڈی نے کی۔ تلنگانہ کی جانب سے یہ استدلال پیش کیا گیا کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون 2014 کے تحت فیصلہ کا اختیار جنوبی ریاستوں کی زونل کونسل کو ہے۔ مرکز کی جانب سے بقایا جات کی ادائیگی سے متعلق مکتوب اختیارات سے تجاوز ہے۔ حکومت نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان باہمی تنازعات کی یکسوئی اور فیصلہ کرنے کا اختیار وزارت داخلہ کو ہے لیکن مرکزی وزارت برقی کے ڈپٹی سکریٹری کی سطح پر یہ مکتوب جاری کیا گیا ہے۔ تلنگانہ کے وکیل نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے الیکشن میں آندھرا پردیش کی برسراقتدار پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی تائید پر یہ مکتوب جاری کیا گیا تاکہ آندھرا پردیش حکومت کی مدد کی جائے۔ آندھرا پردیش کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد سربراہ کی گئی برقی کے بلز کا معاملہ تنظیم جدید قانون کے تحت نہیں آتا۔ آندھرا پردیش نے جو برقی سربراہ کی ہے اس کے بلز کی ادائیگی تلنگانہ کی ذمہ داری ہے۔ ایڈوکیٹ سی وی موہن ریڈی نے مرکزی حکومت کے موقف کی تائید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قرض حاصل کرتے ہوئے برقی کی پیداوار کی گئی لہذا تلنگانہ حکومت کو بقایا جات ادا کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی کونسل کی قانونی حیثیت نہیں ہے اور وہاں نمائندگیاں بے اثر ثابت ہوئی ہیں۔ مرکزی وزارت برقی کی مداخلت سے تلنگانہ کو آندھرا پردیش کی جانب سے برقی سربراہ کی گئی۔ مرکزی حکومت کے وکیل نے کہا کہ برقی بقایا جات کی ادائیگی کے معاملہ میں مداخلت کا اختیار ہے۔ ہائی کورٹ نے اس معاملہ کی مکمل جانچ کیلئے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے برقی اداروں کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ اس وقت تک تلنگانہ کے تعلق سے کوئی سخت قدم نہ اٹھانے کیلئے عبوری احکامات جاری کئے گئے۔ ڈیویژن بنچ کا احساس تھا کہ مرکز نے تلنگانہ کے موقف کی سماعت کے بغیر ہی مکتوب روانہ کیا ہے۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت 18 اکٹوبر کو مقرر کی گئی۔ر