تلگو ریاستوں میں ملازمین کے بین ریاستی تبادلے پر تنازعہ

   

آندھرا کے 1808 ملازمین تلنگانہ میں تبادلہ کے خواہاں، ملازمین کی تنظیموں کی کے سی آر سے نمائندگی
حیدرآباد ۔29 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ و آندھراپردیش کے درمیان ملازمین کے بین ریاستی تبادلوں کا معاملہ تنازعہ کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔ تلنگانہ ملازمین کی تنظیمیں آندھراپردیش میں تبادلہ کی مخالفت کر رہی ہیں۔ آندھراپردیش کے 1808 ملازمین نے تلنگانہ میں تبادلہ کی درخواست دی جبکہ تلنگانہ سے 1369 ملازمین آندھراپردیش جانا چاہتے ہیں۔ تلنگانہ ملازمین کی تنظیموں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف ایسے ملازمین کو آندھرا پردیش سے واپسی کی اجازت دی جائے جو تلنگانہ کے متوطن ہیں۔ دونوں ریاستوںکی حکومتوں نے حال میں ملازمین کے بین ریاستی تبادلوں سے اتفاق کیا۔ آندھراپردیش کے چیف سکریٹری سمیر شرما نے چیف سکریٹری تلنگانہ کو مکتوب روانہ کرکے بین ریاستی تبادلوں پر عمل آوری کی خواہش کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف سکریٹری سومیش کمار نے تاحال اس مکتوب کا جواب نہیں دیا ۔ تلنگانہ ملازمین کی مختلف تنظیموں نے چیف منسٹر کے سی آر کو مکتوب روانہ کرکے خواہش کی کہ آندھرا پردیش کے 1808 ملازمین کی درخواستوں کو قبول نہ کریں کیونکہ تلنگانہ سے 1369 ملازمین نے آندھراپردیش میں تبادلہ کی درخواست دی ۔ ان کا کہنا ہے کہ آندھراپردیش سے ملازمین کی تلنگانہ میں تعیناتی پر تلنگانہ ملازمین پروموشن سے محروم ہوسکتے ہیں۔ ملازمین کی تنظیموں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کی جدوجہد کا مقصد فنڈس ، روزگار اور پانی کی تقسیم میں ناانصافیوں کو دور کرنا تھا۔ اگر تلنگانہ میں مقامی افراد کو روزگار سے محروم کیا گیا تو یہ تلنگانہ تشکیل کے خلاف ہوگا۔ تنظیموں نے کہا کہ آندھراپردیش کے کئی ملازمین سکریٹریٹ اور ایچ او ڈی دفاتر میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ اپنی اہلیہ یا پھر میڈیکل گراؤنڈ کی بنیاد پر موجود ہیں۔ تنظیموں نے کہا کہ صرف تلنگانہ کے متوطن ملازمین کو ہی تبادلہ کی اجازت دی جائے تاکہ تلنگانہ کے حقیقی ملازمین ناانصافی کا شکار نہ ہوں۔ر