احمد آباد ۔ سماجی کارکن تیستا سیتلواد اور سابق آئی پی ایس آفیسر آر بی سری کمار کو یکم جولائی تک پولیس تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ گجرات پولیس نے دونوں کو شہادتوں کو مٹانے، جعل سازی اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ سیتلواد اور سری کمار کو 2 جولائی کو احمد آباد کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ گجرات 2002 فسادات کے کیس میں اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو دی گئی کلین چٹ کو چیلنج کرنے کی ذکیہ جعفری کی درخواست کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا جس کے بعد سیتلواد، سری کمار اور سنجیو بھٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
جماعت اسلامی ہند نے کی تیستا سیتلواڈ کی گرفتاری کی مذمت
نئی دہلی۔ جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) نے انسانی حقوق کی کارکن تیستا سیتلواد کی گجرات پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر سلیم انجینئر نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ انسانی حقوق کے کارکن مظلوم اور ستائے ہوئے لوگوں کے حقوق کے دفاع کے لیے کام کرتے ہیں۔ تیستا سیتلواد اور ان کی این جی او ۔ سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس (سی جے پی) نے 2002 میں گجرات میں مسلم مخالف فسادات کے متاثرین کو قانونی مدد فراہم کی۔ یہ ان کے کام کی وجہ سے فساد متاثرین کی ایک بڑی تعداد کو انصاف ملا اور ملزمین کو گرفتار کیا گیا۔تیستا سیتلواد کی این جی او کی کوششوں کی وجہ سے اس وقت کی مرکزی حکومت کو بڑی تعداد میں لوگوں کو مالی معاوضہ ادا کرنے پر مجبور کیا گیا جو دہلی میں 1984 کے فسادات کے سکھ متاثرین کو دیئے گئے معاوضے کے برابر تھا۔