حیدرآبادیکم اپریل ( یواین آئی) جی ایچ ایم سی نے جائیداد ٹیکس کی وصولی میں تاریخ رقم کرکے 2000 کروڑ روپے کا مقررہ نشانہ عبور کر لیا ۔ سال 2024-25 کیلئے جی ایچ ایم سی نے جائیداد ٹیکس کی وصولی کا نشانہ 1970.10 کروڑ روپے مقرر کیا تھا، تاہم اس سے 42.26 کروڑ روپئے زیادہ وصول کئے گئے ۔ حکام کا اندازہ ہے کہ مزید 50 کروڑ روپے آمدنی ہو سکتی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ جی ایچ ایم سی کے دائرہ کار میں 19.49 لاکھ جائیدادیں شامل ہیں، جن میں 16.35 لاکھ رہائشی، 2.80 لاکھ غیر رہائشی اور 34 ہزار مخلوط استعمال کی جائیدادیں ہیں۔
اب تک تقریباً 16 لاکھ مالکین نے 2012.365 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا ہے ۔ حکام کے مطابق سیری لنگم پلی، چندا نگر، خیریت آباد، جوبلی ہلز، کوکٹ پلی اور ایل بی نگر میں سب سے زیادہ ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ چارمینار زون میں سب سے کم وصولی ہوئی۔ مقررہ نشانہ سے زیادہ ٹیکس وصولی کے بعد حکومت نے 2025۔26 مالی سال کیلئے ایک نئی اسکیم کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے تحت اگر کوئی شہری 30 اپریل تک جائیداد ٹیکس ادا کرتا ہے تو اسے 5 فیصد کی رعایت دی جائے گی۔ حکومت نے شہریوں سے استفادہ کی اپیل کی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی ریکارڈ توڑ ٹیکس وصولی پر کمشنر ایلمبرتی نے اڈیشنل کمشنر (ریونیو) انوراگ جینتی اور جوائنٹ کمشنر مہیش کلکرنی کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ بل کلکٹرس، ٹیکس انسپکٹرس، اسسٹنٹ ‘ڈپٹی اور زونل کمشنرس کی محنت کے باعث زائد وصولی ممکن ہو سکی۔