جائیداد کے تنازعات میں ورثہ کا اہم رول

   

محمد اسد علی،ایڈوکیٹ
موجودہ دور میں ایک افسوسناک رجحان عام طور پر دکھائی دیتا ہے جبکہ کہا جاتا ہے کہ والدین بڑی محنت اور شفقت سے جائیداد بناتے ہیں اور ان کا مقصد ہوتا ہے کہ ان کے بچے ایک آرام دہ اور اچھی زندگی گزاریں۔ یہ سمجھنا چاہئے کہ جو جائیداد بزرگوں نے چھوڑی ہے اس کے لئے ان کی محنت اور لگن کس قدر ہوگی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بڑوں کی چھوڑی ہوئی جائیداد کو بعض وقت نااہل اولاد برقرار نہیں رکھ سکتی اور اسی جائیداد کو کوڑیوں کے مول فروخت کردیا جاتا ہے اور جائیداد کے لئے عام طور پر اپنا حصہ (Share) حاصل کرنے کے لئے آپسی جھگڑے ہوتے ہیں حالانکہ والدین کا مقصد ہوتا ہے کہ بچے مل جل کر اس جائیداد سے فائدہ اُٹھائیں لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اس دور میں نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اُسے زیادہ سے زیادہ پیسہ اور جائیداد حاصل ہو۔ حالانکہ جائیداد چھوڑنے والے صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے مل جل کر پُرسکون زندگی گزاریں لیکن آج کے حالات میں ہر شخص زیادہ سے زیادہ دولت اور مال حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے نتیجہ میں گھر کا ماحول انتہائی بگڑ جاتا ہے اور آپس میں جھگڑے ہونے لگتے ہیں جس سے نہ صرف خاندان بلکہ سارے ماحول میں کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جائیداد اور مال و دولت کے لئے مقدمہ بازی بھی ہوتی ہے اور جائیداد کے لئے ورثاء کو برسوں عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور انھیں بیحد کثیر اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں لیکن خود غرضی کے موجودہ دور میں کوئی بھی اِس بات پر توجہ نہیں دیتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خاندان میں اور آپس میں شدید دشمنی اور منافرت پیدا ہوجاتی ہے۔ جس سے نہ صرف متعلقین بلکہ ان کی اولاد میں بھی آپسی دشمنی موروثی بن جاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان باتوں پر خاندان کا کوئی فرد یا رشتہ دار توجہ نہیں دیتا اور ورثاء میں ہونے والی کشاکش کو کوئی بھی دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا حالانکہ قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کا فریضہ ہے کہ ایسے ورثاء کو جو آپس میں اتحاد سے دور ہوں ان میں صلح صفائی کروائی جائے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ عدالت میں جب کوئی معاملہ جاتا ہے تو اس کی یکسوئی کے لئے برسوں لگ جاتے ہیں لیکن اس بات کو نظرانداز کرتے ہوئے جو لوگ عام طور پر صرف اپنا مفاد دیکھتے ہوئے ہر قسم کی جائز و ناجائز کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال سے ہر طرح کا کسی بھی طرح سے فائدہ حاصل کرے حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ آپس میں جو اختلافات ہوتے ہیں خواہ وہ کسی بھی قسم کے ہوں انھیں صلح و صفائی کے ذریعہ دور کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت بھی ملک کی مختلف عدالتوں میں جائیداد کے مقدمات طویل عرصہ سے زیرسماعت ہیں جبکہ اس کے لئے غیر ضروری اخراجات اور تلخی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری مسلم برادری میں بھی اِس قسم کی صورتحال نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے حالانکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لڑائی جھگڑے یعنی جائیداد کے تنازعات، میاں بیوی کے جھگڑوں میں عدالتی کارروائی کے بغیر آپس میں صلح و صفائی کی جاسکتی ہے اور کوئی معاملہ ایسا نہیں جس کی آپسی مفاہمت کے ذریعہ یکسوئی نہ ہو لیکن جذبات سے کام لینے سے معاملہ بگڑ سکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں عدالت سے رجوع ہونا ایک مصیبت بن جاتی ہے جبکہ اسلام میں اتحاد کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور تاکید کی جاتی ہے کہ آپسی مفاہمت سے ہر قسم کے جھگڑوں کی یکسوئی کی جائے اور ایثار و قربانی سے کام لے کر کچھ دیر کے لئے اپنے مفاد کو فراموش کرتے ہوئے دوسرے کے مفاد کو مدنظر رکھے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف دشمنی پیدا نہیں ہوگی بلکہ عدالتی کشاکش سے بھی بچا سکتا ہے۔
حال ہی میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے شہریوں اور والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی محنت کی کمائی سے حاصل کی گئی جائیداد بطور تحفہ اپنے بچوں یا کسی رشتہ دار کو حوالہ کرتے وقت جو معاہدہ تحریری طور پر تیار کیا جاتا ہے اس میں اس بات کی صراحت کریں کہ یہ تحفہ انھیں حوالے کرنے کے عوض ان کی اولاد ضعیفی میں بڑھاپے کا سہارا بنے گی اور وہ ان کی نگہداشت، تیمارداری اور خدمت کے حقدار ہیں۔ اگر ایسا نہ کرنے کی صورت میں دیا گیا تحفہ جائیداد واپس لینے کے مجاز رہیں گے۔
مزید تفصیلات کے لئے آفس اوقات 7 تا 11 بجے شام اے سی گارڈس، فون نمبر 9959672740 پر ربط پیدا کریں۔