/26 جنوری سے شروع ہونے والی 4 نئی اسکیمات کیلئے فوری 10 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت
حیدرآباد : /14 جنوری (سیاست نیوز) ریاستی بجٹ میں تجویز کردہ قرض میں مزید اضافہ ہور ہاہے ۔ حکومت نے /26 جنوری سے مزید 4 نئی اسکیمات پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کیلئے فوری 10 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت ہے ۔ حکومت نے بجٹ میں قرض حاصل کرنے کی جو تجویز پیش کی ہے ۔ اس میں نظرثانی کرتے ہوئے 23 فیصد زیادہ قرض حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ ریاستی حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے ذریعہ قرض کی حصولی کیلئے دیئے گئے انڈنٹ میں اس کی وضاحت ہوئی ہے ۔ حکومت نے مالیاتی سال 2024-25 ء کیلئے تاحال 40,500 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ آئندہ سہ ماہ (جنوری تا مارچ) کے درمیان ماہانہ 10 ہزار کروڑ روپئے کے حساب سے مزید 30 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کیلئے آر بی آئی کو انڈنٹ پیش کیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مارچ تک اوپن مارکیٹ سے حاصل کیا جانے والا قرض بڑھکر 70,500 کروڑ روپئے پہنچ جائے گا ۔ ریاستی حکومت کے بجٹ تخمینہ میں 57,112 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کا اندازہ لگایا گیا تھا ۔ لیکن حاصل کیا جانے والا قرض اندازے سے 13 ہزار کروڑ روپئے (23 فیصد) کا اضافہ ہور ہا ہے ۔ حکومت جاریہ سال جنوری سے مارچ تک ہر ماہ چار مرتبہ آر بی آئی سے قرض حاصل کرے گی ۔ آر بی آئی کو دیئے گئے انڈنٹ میں اس کی وضاحت کی گئی ہے ۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مالیاتی سال کے آخری مہینوں میں صرف ریاستی حکومت کی آمدنی پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اوپن مارکٹ سے بھی قرض حاصل کرنے پر توجہ دی جارہی ہے ۔ ان تین ماہ کے دوران ریتو بھروسہ ، اندراماں ہاؤزنگ ، زرعی مزدوروں کو مالی امداد ، نئے راشن کارڈس کی اجرائی ، باریک چاول کی تقسیم جیسی اسکیمات پر عمل کرنے کا حکومت نے منصوبہ تیار کیا ہے ۔ گزشتہ مالیاتی سال بھی بجٹ میں تجویز کردہ قرض سے زیادہ اوپن مارکٹ سے قرض حاصل کیا گیا ۔ مالیاتی سال 2023-24 کے دو ران 40,615 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا ۔ تاہم نظرثانی شدہ تخمینہ میں 49,618 کروڑ روپئے قرض دیکھایا گیا ہے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اندازے سے 9 ہزار کروڑ روپئے زیادہ قرض حاصل کیا گیا ۔ 2