Monday , August 19 2019

جموں و کشمیر : دن کی کرفیو برخاست ، حالات بہتری کی جانب رواں دواں

SRINAGAR, FEB 13 (UNI) A deserted view of Jamia Masjid closed for prayers in down town Nowhatta Srinagar as security personnel keepingvigil following a Joint Resistance Leadership of separatists called for a two day general strike in Kashmir valley begins Wednesday against any move to weaken the Article 35 A of the constitution which is scheduled to come up for hearing in Supreme Court this week. UNI SRN PHOTO 6

جموں: جموں شہر میں بدھ کو پانچ روز بعد دن کا کرفیو ہٹالیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر میں بدھ کی صبح آٹھ بجے کرفیو میں تین گھنٹے کی نرمی کا اعلان کیا گیا جس کے بعد اس میں توسیع کرکے نرمی کا وقت شام کے ساڑھے سات بجے تک بڑھا دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کرفیو میں نرمی کے دوران کوئی ناخوشگوارواقعہ پیش نہیں آیا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر میں زندگی تیزی سے معمول پر آرہی ہے اور امید ہے کہ جمعرات کو معمولات زندگی مکمل طور پر بحال ہوں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے اور سول و پولیس انتظامیہ کے سینئر عہدیدار صورتحال پر باریک بینی سے نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ سول انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ جموں میں دن کا کرفیو اٹھائے جانے کے بعد بدھ کے روز معمولات زندگی بحال ہوئے اور حالات مجموعی طور پر پر امن رہے۔

انہوں نے تاہم بتایا کہ شہر میں اگلے احکامات تک دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی جاری رہے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ شہر میں اگرچہ بدھ کی صبح سست رفتار والی ٹو جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئیں، تاہم بعدازاں یہ خدمات پھر سے معطل کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ خدمات ظاہری طور پر افواہ بازی کو روکنے کے لئے معطل کی گئیں۔

جموں شہر میں انتظامیہ نے 15 فروری کو اس وقت کرفیو نافذ کیا تھا جب شرپسندوں نے مسلم آبادی والے گوجر نگر اور پریم نگر میں قریب تین درجن گاڑیاں جلادیں، دیگر کئی درجن گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا اور متعدد رہائشی مکانات کے شیشے چکنا چور کردیے۔ شرپسندوں کے ہاتھوں تشدد کے یہ واقعات اس دن پیش آئے جب جموں شہر میں ہلاکت خیز پلوامہ خودکش حملے کے خلاف ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کئے جارہے تھے۔ اگلے روز یعنی 16 فروری کو ترنگا بردار شرپسندوں کے ہجوم نے ایک بار پھر شہر کے مختلف علاقوں بالخصوص مسلم اکثریتی جانی پورہ میں رہائشی مکانات و گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے انتظامیہ کو کرفیو کا نفاذ جاری رکھنا پڑا تھا۔
جموں میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات 14 اور 15 فروری کی درمیانی شب کو ہی معطل کی گئی تھیں۔ تاہم براڈ بینڈ خدمات کو معطلی سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔

ضلع مجسٹریٹ جموں رمیش کمار نے بتایا کہ بدھ کو کرفیو میں نرمی کے دوران حالات پرامن رہے۔ انہوں نے کہا ‘کرفیو میں نرمی کے دوران کسی بھی علاقے سے کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم کرفیو کو مکمل طور پر ہٹانے کا فیصلہ میٹنگ میں لیا جائے گا’۔ رمیش کمار نے کہا کہ جن علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی گئی وہاں دفعہ 144 برابر جاری رہے گا۔ انہوں نے لوگوں سے تاکید کی کہ وہ قیام امن کو یقینی بناکر شر پسند عناصر کو اپنے علاقوں میں امن میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہ دیں۔

جموں میں بدھ کے روز ہونے والے آٹھویں اور نویں جماعت کے امتحانات ملتوی کئے گئے اور تمام سرکاری وغیر سرکاری اسکول وکالج بند رہے۔ اس کے علاوہ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن جموں نے 23 اور 26 فروری کو لئے جانے والے بارہویں جماعت کے امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جموں یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ 20 اور 21 فروری کو لئے جانے والے پوسٹ گریجویشن ،ایم فل، پی ایچ ڈی اور سی بی سی ایس کے امتحانات ناسازگار حالات کے پیش نظر ملتوی کیے گئے ہیں اور نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

شہر کے تمام حساس علاقوں بشمول گوجر نگر، جانی پورہ، شہیدی چوک، تالاب کھٹیکا میں فوج کی ٹائیگر ڈویژن سے وابستہ کئی فوجی کالم بدستور تعینات ہیں۔ صورتحال کی ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ جموں کے مختلف سول سوسائٹی گروہوں بالخصوص بالخصوص جموں مسلم سول سوسائٹی نے امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
دریں اثنا کرفیو میں نرمی کے دوران بازاروں میں لوگوں کی کافی بھیڑ دیکھی گئی اور دکانوں، تیل پمپوں اور اے ٹی ایم مشینوں کےباہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں۔

کرفیو میں نرمی کے دوران بیشتر افراد کا کہنا تھا کہ ہم بھائی چارگی کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔ ایک مقامی باشندے نے کہا ‘کاروباری افراد اور مزدور طبقہ کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ بچوں کا سکول جانا بند ہوگیا ہے۔ ہم بھائی چارگی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم سب بھائی ہیں۔ ماحول کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہیے’۔ ایک اور مقامی شہری نے بتایا ‘جموں میں آج کل شادیوں کا سیزن ہے۔ حالات خراب رہنے کی وجہ سے لوگوں کو بے حد پریشانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے’۔

TOPPOPULARRECENT