جیڈی میٹلہ میں آلودگی کا سبب بننے والے صنعتی اداروں کے خلاف کارروائی

   

پولیوشن کنٹرول بورڈ کو ہائی کورٹ کی ہدایت، تفصیلی رپورٹ طلب
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ جیڈی میٹلہ کے علاقہ میں قائم کی جانے والی صنعتوںکو بند کرنے کے احکامات جاری کریں کیونکہ آلودگی کے سبب عوام کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پولیوشن کنٹرول بورڈ کو ہدایت دی کہ صنعتوں کو نوٹس جاری کی جائیں اور انہیں آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کرنے کے لئے پابند کیا جائے۔ اگر وہ پابندی نہیں کریں گے تو بند کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ مقامی افراد کی صحت پر مضر اثرات کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے مفاد عامہ کی درخواست داخل کی گئی۔ عدالت نے پولیوشن کنٹرول بورڈ کے وکیل سے کہا کہ اگر ضرورت پڑنے پر پولیس کی مدد حاصل کی جائے تاکہ کسی احتجاج سے نمٹا جاسکے۔ عدالت نے اندرون دو ماہ یہ کارروائی مکمل کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ صنعتوں سے نکلنے والا فضلا اطراف کے تالابوں اور جھیلوں میں پہنچ رہا ہے جس کی وجہ سے پانی آلودہ ہورہا ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ صنعتی فضلا زیر زمین پانی کو آلودہ کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔ آلودہ پانی کے استعمال سے حالیہ عرصہ میں کئی بچے متاثر ہوئے ہیں۔ عدالت نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ گزشتہ 30 برسوں سے حکام نے آلودگی کا سبب بننے والی صنعتوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ہائی کورٹ نے پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کئے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ 45 ایسی صنعتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو آلودگی کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہیں وارننگ کے ساتھ نوٹس جاری کی گئی ۔ ابھی تک 16 صنعتوں نے آلودگی میں کمی کے اقدامات کئے ہیں۔